چلو اک جنگ ایسی ہو کہ بیڑا پار ہوجائے
امتیاز رومی
جواہرلال نہرویونیورسٹی، نئی دہلی
imteyazrumi@gmail.com
جنگ مطلب لہولہان، خون خرابہ ، قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا منظرنامہ۔ جنگ ابتدا ہی سے لڑی جارہی ہے اور انتہا تک لڑی جاتی رہے گی۔ جب تک یہ جہان ہے اور اس پر حضرت انسان ، جنگ و جدال اور قتل و قتال کا سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ ابتدائے افرینش میں قابل نے اپنے مفاد کے لیے سب پہلے انسان کا خون کیا۔ یہ جنگ تو نہیں تھی البتہ انسانی خون کا پہلا قطرہ تھا جو زمین پر گرا۔ تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی جانب سے جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ حق و باطل کی جنگیں تھیں اسی لیے جہاد کاحکم بھی نازل ہوا۔ یعنی جب باطل قوتوں نے اہل حق کو نیست و نابود کرنے کی سازش کی اوران کے لیے زمین تنگ کردی تب مجبور ہوکر مسلمانوں نے اپنی دفاع کے لیے میدان جنگ کا رخ کیا۔ مگر آج اسلام اور جہاد کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں قتل و غارت اور فتنہ و فساد برپا کر رہی ہیں وہ دراصل لشکر شیاطین ہیں۔اسلام سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور جہاد کے نام پر فساد فی الارض کررہے ہیں۔
قدیم زمانے میں لاٹھیوں بھالوں، تیروں اور تلوارں کے ذریعے جنگیں ہوتی تھیں۔ اب زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ گولی ، بم، بارود، اور ایٹم بم جیسے خطرناک اور مہلک ہتھیار انسانوں نے بنالیے۔ جن سے ایک ہی لمحے میں پورے ملک کو ملبے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جنگوں کا یہ کھیل صدیوں سے جاری ہے۔ جس میں بے شمار لوگوں کے جان و مال تباہ ہوجاتے ہیں لیکن اس تباہی کے ملبے پر ایک آدمی اپنی کرسی لگائے اور تخت و تاج سجائے مسکراتا رہتا ہے۔ جوانسانی شکل میں حرص اورہوس کا پجاری ہوتا ہے۔ دراصل کسی بھی جنگ میں دونوں فریق کے سپاہی اوربے گناہ عوام ہی مارے جاتے ہیں۔ انسانیت کی شکست ہوجاتی ہے اور جیت صرف چند مفاد پرستوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے عبرت کے لیے دنیا کی بڑی بڑی جنگیں ہیں جن میں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی شامل ہیں۔ پہلی جنگ عظیم اس معنی میں اہم ہے کہ پہلی بار اس میں جدید ٹیکنا لوجی سے لیس اسلحوں اور زہریلی گیسوں کا استعمال ہوا۔ جس کے نتیجے میں تقریبا دو کروڑ لوگ جاں بحق ہوگئے اور زندہ بچ جانے والے بھی بیماری اور تنگدستی کے شکار ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم میں تقریبا چالیس ممالک کے کروڑوں لوگ ہلاک اور متاثر ہوئے۔ حالیہ جنگوں میں عراق، افغانستان، لیبیا، شام اور فلسطین کا جو انجام ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔
زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ جنگ کی نوعیتیں اور حقیقتیں بھی بدلتی گئیں۔آپسی جنگ، خانگی جنگ ،ملکی جنگ اور عالمی جنگ۔ ان کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس عہد میں ڈیجیٹل جنگ، سائبر جنگ، میڈیا جنگ اور نفسیاتی جنگ بھی جاری ہے۔ جنگوں کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے ان محاذوں کے خلاف ایک اور محاذ کھولا جائے۔ اگر ہماری جنگی توانائی اس جانب متوجہ ہوگئی اور صحیح معنوں میں مسائل کے خاتمے کے لیے جنگ لڑی گئی تو ان کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔
تجارت و حکومت کے اس عہد میں جنگ بھی ایک تجارت اور وجہ حکومت بن چکی ہے۔ دو فریق کے لڑنے سے تیسرے فریق کا فائدہ ہونا بھی ایک لازمی امرہے ۔ اگر جنگ بند ہوجائے تو اسلحوں کی تجارت کرنے والے افراد اور ممالک فاقہ کشی میں مبتلا ہوجائیں گے ۔ اس لیے جنگ کرانے والوں کی بھی ایک مضبوط یونین ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری ذہنیت ہے جو مسلسل کام کر رہی ہے۔ انسان بھی کتنا عجیب ہے۔ اس نے خود اپنے لیے پہلے سرحدوں کی دیواریں بنائیں ۔مذہب و مسلک اور ملک و ملت کی تفریق قائم کی اور خود ہی اس کے لیے تلواریں تک نکال لی اور اس کی حفاظت کے لیے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو لگا دیا۔پہلے تو خود ہی سرحدوں میں تقسیم ہوگئے۔ پھر سرحد کے دونوں پار لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر کھڑا کردیا کہ اس پار کے لوگوں کو بچانے کے لیے اس پار کے لوگوں کومارگرانا ہے۔ اسلحوں کی تجارت کے لیے دو لوگوں اور ملکوں میں جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔ اپنے سر ملک و ملت کا تخت و تاج سجانا ہے اور اس کے لیے ہزاروں لوگوں کی بلی چڑھانا ہے۔انسان نے انسانوں کو گوروں کالوں کے درمیان ، اونچ نیچ کے درمیان ،طاقتور اور کمزور اور امیر وغریب کے درمیان تقسیم کرکے ایک دیوار حائل کی اور پھر اپنی مرادیں پوری کرنے کے لیے جنگوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا۔
جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے اس سے مسائل کیا حل ہوں گے۔ تاہم ہے اگر اس کا رخ موڑ دیا جائے ان مسائل کی طرف جن سے ہم نبرد آزما ہیں اور واقعی ان کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ممکن ہے ان کے حل نکل آئیں۔ پرامن مذاکرہ اور بات چیت سے کسی نتیجے اور حل کی طرف بڑھاجاسکتا ہے۔ مگر جنگ نے سب کچھ ختم کردیا ہے۔ انسانوں کی اس بھیڑ میں انسانیت دور بہت دور گم ہوچکی ہے۔ چناں چہ اک جنگ ایسی ہوکہ آرپار ہوجائے اور انسانوں کا کلیان ہوجائے ۔ اس کے دو راستے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جتنے ممالک ہیں وہ سب نیوکلیر بم بنا کر دن تاریخ اور وقت متعین کرکے ایک ساتھ نیوکلیر بم کا بٹن دبادے تاکہ دنیا کا ایک ایک فرد بلکہ پوری کائنات ایک ساتھ فنا ہوجائے اور خدا کی بارگاہ میں پہنچ جائے۔ کم سے کم روز روز کے ہنگاموں سے تو چھٹکارا مل ہی جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان جنگوں کے رخ انسانی خون خرابے کے بجائے ان برائیوں کی طرف موڑ دیے جائیں جن کے سبب یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
لہٰذا آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے جنگ کا اعلان کریں جس سے ہر برائی کا خاتمہ ہوجائے اور نفرتوں کی کہانی مٹ جائے۔ پوری شدت کے ساتھ نفرت و عداوت کے خلاف، بغض و حسد کے خلاف ، انسان اور انسانیت سوز عناصر کے خلاف ، اپنی انا اور ہوس کے خلاف اور عدم رواداری کے خلاف محاذ قائم کریں ، بد اخلاقی اور بدکرداری، ظلم وجبر اور استحصال کے خلاف جنگ کا اعلان کریں اور جب تک فتح و نصرت نہ ملے تب تک ہم میدان جنگ میں ڈٹے رہیں۔ امید ہی نہیں یقین کامل ہے کہ ہم فتح یاب ہوں گے ۔ پھر اسی دنیا میں ایک ایسا ملک، ماحول اور سماج جنم لے گاجہاں اخوت ومحبت، امن وآشتی اور صلح ومصالحت کا پہرہ ہوگا۔ ذہنی و فکری کدورتوں کا خاتمہ ہوگا اور ہر ایک فرد خواہ وہ کسی بھی مذہب و مسلک کا ہو دوسروں کے گلے کاٹنے کے بجائے ان کو گلے لگائے گا۔ جہاں ہرطرف خوش حالی اور امن وامان ہی ہوگا۔ چلو اک جنگ ایسی ہو کہ بیڑا پار ہوجائے۔

Article is full of satire , lt leads toward peace of the nation that's too much necessary for whole world. Congrats to chose this kind of articles in Urdu literature.
ReplyDeleteIf u r writing it means u r alive. Happy to c ur well analysed and deeply meaningful essay. Ur writings are inspiration 4 us. Cold war, cyber war, and all are mentioned in this short note. Great.
ReplyDeleteSome spelling mistakes r also there. In first paragraph the word, کے is left. And there within brackets the English word, Defence' I think not in it's right place.
Thank u for sharing such a beautiful essay.