Search This Blog

Friday, 10 November 2017

سید محمد اشرف کی باد بہاری




سید محمد اشرف کی باد بہاری


امتیاز رومی
جے این یو نئی دہلی
9810945177

imteyazrumi@gmail.com



اکیسویں صدی کے افق پر طلوع ہونے والا آفتاب دوسری دہائی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس دہائی کی کربناکی اور تصادم، ایاّم گزشتہ سے بیشتر ہے۔اس عہد میں انسان بیک وقت دو محاذ پر نبرد آزما ہے۔ اوّل عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات اور دوم مادی منفعت کی ریس میں گم ہوتے داخلی احساسات۔ قدیم زمانے میں میدان جنگ میں بھی اصول اور ایمانداری کا پاس و لحاظ رکھا جاتا تھا تاہم اب عبادت گاہوں میں بھی تخریبی پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے۔صنعت و حرفت کی برق رفتاری کے سامنے انسانیت بے بس ہے۔ حرص و ہوس نے عالمی سطح پر بے شمار مسائل کو جنم دیا ہے۔فیس بک اور انٹر نیٹ کے ذریعے فاصلے ضرور مٹ گئے تاہم قلوب واذہان میں دوریاں اور بڑھ گئیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی کا ارتقا انسانیت کو انفرادیت کی طرف تیزی سے لے جارہا ہے جہاں وہ کائنات کے آہنگ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے اندر جہان نو آباد کیے ہوا ہے۔یہ ہے اکیسویں صدی، جو متضاد کیفیتوں سے دوچار ہے۔ ایک طرف ترقی کی معراج ہے تو دوسری طرف تنزلی کی انتہا۔تحفظ انسانیت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے سیکڑوں آبادیاں خرابے تبدیل کر چکے ہیں اور اس کے ملبے پر سوار ہوکر امن و آشتی کا پیغام دے رہے ہیں۔ بظاہر انسان دکھنے والا لکڑ بگھا صفت اپنی عیاری پر مسکرا رہا ہے۔
اس پس منظر میں سید محمد اشرف کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیں تو ان کے بیس /تیس برس پہلے لکھے ہوئے افسانے بھی آج کے معلوم ہوتے ہیں۔ ان افسانوں میں اکیسویں صدی اپنی مکمل صفات کے ساتھ موجود ہے۔چوں کہ صدی کی تبدیلی سے مسائل یکلخت اور یکسر تبدیل نہیں ہوجاتے یہی وجہ ہے کہ سید محمد اشرف کی کہانیوں میں بیان شدہ مسائل ومعاملات اس صدی سے مربوط اور ہم آہنگ معلوم ہوتے ہیں۔ بلکہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں کلاسیکی رنگ اور بھی گہرا ہوتا نظر آرہا ہے۔ ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ (1994) اور ’’باد صبا کا انتظار‘‘ (2000) منظر عام پر آکر اردو کے افسانوی سرمائے میں بیش بہا اضافہ کر چکے ہیں۔اکیسویں صدی میں ان کا کوئی افسانوی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ ’رنگ‘ اور ’منشی خاں‘ کے نام سے محض دو افسانے اب تک انھوں نے لکھے ہیں البتہ اس صدی کے بیشتر مسائل و معاملات ان کے یہاں پہلے ہی سے موجود ہیں۔ 
سید محمد اشرف نے کبھی ’بڑے پل کی گھنٹیاں ‘بجائی،کبھی ’ڈار سے بچھڑے ‘لوگوں پر وہ ماتم کناں ہوئے اور ڈار سے ملنے کی حسرت کو ورق ورق پر بکھیر دیا۔ تو کبھی ’لکڑبگھا کو ہنسایا‘،رلایا اور پھر چپ کرایا۔ لکڑ بگھے کی ان تینوں کیفیات میں انسان کی مکاری، عیاری اور خود غرضی کو علامتی و تمثیلی طور پر استعارہ بنا کر پیش کیا۔ اس کی آڑ میں انسان کے اندر پوشیدہ لکڑ بگھاکو آشکار کیا۔کبھی’ جنرل نالج سے باہر کا سوال‘کرکے غربت و تنگ دستی کا قصہ سنایا ، تو کبھی ’اندھا اونٹ‘ کو وقت کا استعارہ بنایا۔شری رام جی کی مریادہ بابری مسجد کو تاراج کرکے ’آخری بن باس‘ پر بھیج دیا۔ ’تلاش رنگ رائیگاں‘ سے محبت کے قوس قزح ابھرے اور اردو کی صحت و توانائی کے لیے ’باد صبا کا انتظار‘ شدت سے کیا۔ 
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں لکھا گیا افسانہ ’’آدمی‘‘آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں حقیقت بن چکا ہے۔ دہشت کے سائے میں ایک آدمی دوسرے آدمی سے کتنا خائف ہے۔ زہر آلود ماحول نے انسانی نفسیات کو ہراس کردیاہے جس کے نتیجے میں ہر کوئی جان کا دشمن نظر آتا ہے۔انسانی بھیڑ کب بھیڑیا بن جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ افسانہ کی زبان میں ’’ کھڑکی بند رکھوں تو گھٹن ہوتی ہے، کھول دوں تو دل اور زیادہ گھبراتا ہے لگتا ہے جیسے سب ادھر ہی آرہے ہوں‘‘۔
’’تمھیں آج چلنا ہی ہوگا سرفراز۔ بھابھی کو فون کرکے تیار ہونے کو کہہ دو۔‘‘
’’کیا تم نے اخبار نہیں پڑھا انوار؟ پرسوں ریل گاڑی سے اتار کر۔۔۔۔۔۔‘‘وہ چپ ہوگیا۔
انوار بھی خاموش ہوگیا۔پھر بولا۔
’’اچھا تو بھابھی اور بچوں کو یہیں رہنے دو۔‘‘ (1) 
مذکورہ اقتباس میں موجودہ ہندوستانی منظرنامہ Mob Law اور Mob Lynch کتنا واضح نظر آرہا ہے۔سہمی سہمی فضاسے ایسا لگتا ہے یہ افسانہ آج کل ہی لکھا گیا ہے۔
’’لکڑ بگھا ہنسا ، لکڑ بگھا رویا اور لکڑ بگھا چپ ہوگیا‘‘در اصل انسانی سماج میں گھن کی طرح سمائے ہوئے لکڑ بگھے کی داستان ہے ۔ آج ہر انسان کے اندر ایک مکار، عیار اور خود غرض لکڑ بگھا چھپا ہے۔ وفاداری کے پردے میں غداری۔جب دیکھو تو وہ سب سے بڑا مخلص اور جوں ہی نظر ہٹی خون پینے پر آمادہ۔ ان افسانوں میں لکڑبگھے کا ہنسنا، رونا اور چپ ہوجانا بطور استعارہ انسانی فطرت کی نقاب کشائی کرتاہے۔انسانوں سے نفرت اور دغاکرنے والا بھی انسانوں جیسا ہی دکھتا ہے۔آج اکیسویں صدی میں ان افسانوں میں حقیقت کا رنگ اور بھی گہرا ہوتا نظر آرہا ہے۔
سید محمد اشرف کی افسانوی کائنات میں انسان کا مکروہ چہرہ بہت واضح نظر آتا ہے۔ انھوں نے انسان کے درون میں موجود حیوانی صفات بیان کرنے کے لیے جانورں کا سہارا لیا۔ یوروپین فکشن نگاروں میں روڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) اور جوزف کونرڈ (Joseph Conrad)نے جنگلات حیوانات کو فکشنلائزڈ (Fictionalized) کیا۔اردو میں سید رفیق حسین کا نام اس حوالے سے بہت اہم ہے جنھوں نے اردو افسانے میں حیوانی کردار کو خوب پیش کیا۔ اسی طرح سید محمد اشرف کے افسانوں میں لکڑ بگھا، نیلا، کالو اور پاگل ہاتھی وغیرہ بنیادی کردار بن کر ظہور پذیر ہوتے ہیں تاہم یہ درحقیقت جنگلی جانور نہیں بلکہ ان کو علامت بنا کر انھوں نے انسان کی ذہنی و معاشرتی حیوانیت کو بے نقاب کیا ہے۔لکڑ بگھا سریز کی کہانیاں اور ’چکر ‘اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
سید محمد اشرف کی فکری نشو ونما میں گاؤں اور قصبے کا بہت عمل دخل ہے ؛جہاں ان کا بچپن انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اورکھیت کھلیانوں کے میں گزرا۔ مذہبی اور خانقاہی ماحول میں ان کی پرورش ہوئی اور ان سب کو اپنے اندر جذب بھی کیا۔ پھر تخیلات کی بھٹی میں تپا کرافسانوی کینوس پر بکھیر دیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے اپنے ماحول کے پروردہ معلوم ہوتے ہیں۔ موضوعات کی تلاش اور کرداروں کی دریافت میں انھیں دور جانے کی قطعاضرورت نہیں پڑتی۔ آس پاس سے کسی کردار کا انتخاب کرکے اس کے پس منظر میں کہانی بیان کردیتے ہیں۔ چناں چہ اس حوالے سے وہ بیان کرتے ہیں: 
’’بچپن اور لڑکپن قصبے میں گزرا۔دیہات اور جنگل بھی وہاں سے دور نہیں تھے۔ پرندوں، چرندوں اور درندوں کو قریب سے دیکھا۔ فطرت کے مظاہر، بارش، دھوپ، چھاؤں، بادل، کھیت، کھلیان، درخت اور پھول، تشبیہوں، تمثیلوں یا علامتوں کی طرح نظر نہیں آتے بلکہ اپنی اصلی صورت و فطرت میں میرے ساتھ جیتے ہیں۔ انھیں تشبیہ، تمثیل اور علامت بنانے میں مجھے محنت نہیں کرنی پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ میری کہانیوں میں جانور بے تکلفی سے داخل ہوجاتے ہیں اور پھر وہ میری کہانی کے ساتھی بن جاتے ہیں۔‘‘(2)
’باد صبا کا انتظار‘ میں کل نو کہانیاں ہیں جن کی بافت میں انسان کی بے بسی، لاچاری، نفسیاتی تناؤ، داخلی کشمکش اور بیزاری شامل ہیں۔شہری زندگی کی روٹین لائف، انسانی نفسیات پر کتنے گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اس کی بہترین مثال ’’ساتھی‘‘میں موجود ہے۔اس کہانی کے ہیرو انور کے پاس دنیاوی آسائش کی ساری چیزیں موجود ہونے کے باوجود اس کی ایک معمولی سی خواہش پوری نہیں ہوپاتی ۔شہر میں بنگلہ نما بڑا سا گھر ،گاڑی اور پیسہ کسی چیز کی کمی نہیں۔بس کمی ہے تو ایک ایسے ساتھی کی جس کے ساتھ کچھ تفریحی لمحات گزار سکے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے بھی باتیں نہیں کرپاتا۔شام کو آفس سے واپس سے آکر بچوں کے ساتھ کچھ پل بتانا چاہتاہے اور اپنی پسند کی کتابیں پڑھنا چاہتا ہے مگر اس کی بیگم اپنا روٹین شروع کردیتی ہے۔ انور شدید نفسیاتی تناؤ میں مبتلا ہوچکا ہے ۔ اس کو گہری نیند سوئے ہوئے زمانے بیت گئے۔تھوڑی سی آہٹ پر اس کی آنکھ کھل گئی۔ سگریٹ لے کر کمرے سے باہر سیڑھی پر بیٹھ گیا۔ پیچھے سے کسی انسان کا سایہ نمودار ہوا۔ پھر پاس آکر وہ ساتھ بیٹھ گیا اور دونوں اس طرح باتیں کرنے لگے جیسے کوئی برسوں پرانا دوست ہو۔حالاں کہ وہ شخص انور کے گھر میں چوری کرنے آیا تھا اور اس کے پاس ہتھیار بھی تھا مگر انور کی جذباتی گفتگو کا وہ اسیر ہوگیا۔انور آج خوف کے سایے میں بھی بہت پرسکون تھا۔اپنے ہی گھر میں آئے ہوئے ایک اجنبی چور سے دل کی باتیں شیئر کر رہا تھا۔اس مقام پر دونوں کے جذبات ومحسوسات ایک ہوجاتے ہیں۔ ان کے مابین کبھی برادرانہ محبت تو کبھی پدرانہ شفقت نظر آتی ہے۔ آج برسوں بعد انور کو دل کی باتیں سننے والا ایک ساتھی ملا اور سارا تناؤ جب نکل گیا تو اسے نیند آنے لگی اور اسی اجنبی چور کے زانو پر سر رکھ کرگہری نیند سو گیا۔
راست بیانیہ میں یہ ایک عام سی کہانی ہے جس کا وقوع نفس الامر میں شاید ممکن نہ ہو،تاہم افسانہ نگار نے انور کی صورت میں گہرا نفسیاتی تجربہ پیش کیا ہے۔ گردش ایّام کے ساتھ ساتھ اس کہانی کی معنویت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو کسی تخلیق کو فن پارہ بنادیتی ہے۔ ساتھی میں شہری زندگی کی بے کلی اور بے اطمینانی پر تاسف کا اظہار اوراس کے نتیجے میں جنم لینے والی نفسیاتی کیفیات کا بیان ہے۔ نیز میاں بیوی کی انڈر اسٹینڈنگ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ در اصل انور کی بیوی نے اسے ایک پل بھی اس کی مرضی کے مطابق جینے نہیں دیا:
’’وہ پچھلے کئی برس سے اس تلاش میں تھا کہ اپنے گھر میں سکون کے ساتھ اپنی مرضی سے چند گھنٹے اپنے طور پر گزارے۔ کتنی معمولی خواہش تھی جو پوری ہی نہیں ہوتی تھی۔ آفس کی پابندی بھگت کر جب انور گھر میں داخل ہوتا تو پابندیوں کی ایک نئی ترتیب اس کا انتظار کر رہی ہوتی تھی۔ اس کی بیوی کا یہ خیال غالبا بہت واجب تھا کہ زندگی میں نظم و ضبط اور پابندیاں بہت ضروری ہوتی ہیں۔‘‘(3)
اسی طرح ’’دعا‘‘ نفسیاتی رد عمل کی کہانی ہے جس میں ایک نوکرسلیم اپنی انا کی تسکین کے لیے مالک کے ہر حکم کے خلاف اپنا خاموش احتجاج درج کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب بھی میم صاحب اسے کوئی حکم دیتی ہے وہ دبی زبان میں اس کی تکرار کرتا ہے۔مثلا میم صاحب کہتی ہے ’’کپڑے اٹھاؤ، فروٹ کاٹ کر رکھ دو اور درہم برہم‘‘ تو یہ بھی ان جملوں کو دبے لفظوں میں دہراتا ہے۔ در اصل صاحب اور میم صاحب کا حکم نامہ سلیم پر سایے کی طرح مسلط رہتا ہے جو اسے کبھی سکون کی سانس نہیں لینے دیتا۔اس کی نفسیات غلامی کی یہ زندگی قبول کرنے کے لیے بالکل بھی آمادہ نہیں مگر وہ اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے مجبور ہے۔ سلیم کے دادا نے اسے طوفان، بارش اور بجلی سے محفوظ رہنے کے لیے بہت سے اوراد و وظائف اور دعائیں یاد کرائی تھی۔چوں کہ بہت دنوں سے آندھی طوفان اور بارش سے گھر کے سارے افراد پریشان ہوچکے تھے چناں چہ میم صاحب اسے طوفان ٹلنے کی دعائیں کرنے کو کہتی ہے ۔سلیم مصلّے پر بہت پرسکون ہوکر آیات و وظائف کا ورد کرتا ہے تاہم جب دعاکا وقت آتا ہے تو اس کی زبان خاموش ہوجاتی ہے۔اس کا دل یہ گوراہ نہیں کرتا کہ طوفان ٹل جائے ۔ دل ہی دل میں ’’درہم برہم درہم برہم‘‘ کی تکرار کرتا رہتا ہے۔ دعا کے ساتھ ہی باہر کا طوفان بھی بڑھنے لگتا ہے۔ آج سلیم بہت خوش ہے کیوں کہ اس نے خدا کی بارگاہ میں اپنا احتجاج درج کروا دیا ہے۔
اس کہانی میں آقا کے جبر کے خلاف نفسیاتی ردّ عمل کا اظہار شدت سے ہوا ہے اور اس سے گلو خلاصی کی آخری ترکیب اس کی سائیکی کی انتہا ہے۔آج کی شہری زندگی میں سلیم جیسے بے شمار کردار موجود ہیں جو مجبورا اپنی انا سے سمجھوتہ کرکے مالکانہ جبر کے خلاف نفسیاتی ردّ عمل ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ سید محمد اشرف نے ان افسانوں میں انور اور سلیم
جوزف اسٹالن(JosephStalin) کے بقول ’ریاستوں کے حکمراں اور سرمایہ دار ،عوام کا سب کچھ لوٹ کر انھیں اپاہج کردیتے ہیں اور پھر معمولی خوراک دے کر ان کا مسیحا بن جاتے ہیں‘۔ بیانیہ کی دوہری ساخت میں تخلیق کیا گیا سید محمد اشرف کا افسانہ ’’طوفان‘‘اس کی مکمل تصویر کشی کرتا ہے۔ اس افسانے میں ایک طرف طوفان نے ایک آباد شہر کو خرابے میں تبدیل کردیا تو دوسری طرف سیاسی ، سماجی، فلاحی اور صحافی لوگوں نے اپنی دکان چمکانا شروع کردی۔دوسرے شہر کے امیر کبیر افراد نے پرانے کپڑے، جوتے اوردیگر اشیا ریلیف فنڈ میں دے کر اپنے گناہ دھل لیے۔ حکومت نے بھی بطور امداد کھانے، پینے اور پہننے اوڑھنے کی چیزیں وہاں بھیجی تاہم ان میں سے ایک بھی حق دار کے پاس نہ پہنچ سکی۔ غیر سرکاری تنظیمیں یتیم و نادار بچوں کی تھوڑی بہت دیکھ بھال کرکے ریلیف فنڈ حاصل کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہوگئیں۔ چند بچوں کا دل بہلانے اور ماں باپ کی کمی دور کرنے کے لیے آرادھنا کو ذمے داری دی گئی ۔ آرادھنا نے بڑی محنت و مشقت سے ان بچوں کے چہرے پر مسکان واپس لائی تھی۔ ریلیف فنڈ کے لیے جب گروپ فوٹو لیا گیا تو ان بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ جگمگا رہی تھی جو ٹائی والے شخص کو بالکل بھی پسند نہیں آیا:
’’اب ٹائی والا ان بچوں کی طرف بڑھا اور بولا۔ 
’’ایک تو نہا دھوکر کرکے آئے ہو اوپر سے فوٹو کھنچواتے وقت مسکراتے بھی ہو۔ کون تمھیں اناتھ سمجھے گا۔ کون تمھارے لیے پیسے بھیجے گا۔ کس کو وشواس ہوگا کہ تمھارے ماں باپ مر چکے ہیں؟‘‘
اس نے آگے بڑھ کر بچوں کے سنوارے ہوئے بالوں کو بکھیر دیا اور فوٹو گرافر نے جیسے ہی ’’ریڈی‘‘ کہا۔ ٹائی والا زور سے غرّایا۔ 
’’خبر دار جو کوئی بھی مسکرایا ۔ چپ چاپ بیٹھے رہو۔ مسکرانا مت‘‘۔ 
(4) 
مدد کی آڑ میں پیدا ہونے والی نفسیات اور انسان کا ایک دوسرا روپ ’’طوفان‘‘ میں دکھایا گیا ہے۔موجودہ عالمی تناظر میں اس کہانی کو دیکھیں تو سیاسی اور سماجی رہنماؤں کی ظاہر داری اور باطن کی خرابی کی پول کھولتی ہے۔پوری دنیا کے ریسورس پر قبضہ جمانے اور سپر پاور بننے کی ہوس انسانیت کو تار تار کر رہی ہے۔کسی ملک یا شہر کو پہلے بم گرا کر تباہ کیا جاتا ہے پھر تحفظ انسانیت کے نام پر اس کے لیے ریلیف فنڈ جاری کیا جاتا ہے۔
افسانے کی شعریات میں واقعات کے منطقی انسلاکات و ارتباط اور مختلف وقوعوں کو زمانی ومکانی تسلسل سے ہم آہنگ کرکے کسی ایک فریم میں متشکل کرنا اور انھیں منطقی نتیجے تک پہنچانا ایک بنیادی ڈھانچہ ہے۔تاہم روایتی شعریات سے بغاوت کرکے بھی تخلیقی تجربات کیے گیے جس کے نتیجے میں افسانے کی ہیئت وتکنیک میں تنوع پیدا ہوا۔اس حوالے سے بھی سید محمد اشرف کی منفرد شناخت ہے ۔راست بیانیہ کے علاوہ انھوں نے علامتی،استعاراتی اور تمثیلی کہانیاں نہ صرف لکھی بلکہ اس پورے نظام کے لیے مناسب تعبیرات و استعارات کے سہارے سے فضا خلق کیا۔بطور مثال چکر،لکڑ بگھا ہنسا، لکڑ بگھا رویا، لکڑ بگھا چپ ہوگیا، آخری بن باس، اندھا اونٹ اور باد صبا کا انتظار پیش کیے جاسکتے ہیں۔
باغ بہشت سے جب حکم سفر ملا تھا تب ہی کہانی کا وجود عمل میں آچکا تھا۔تب سے اب تک بے شمار ہیئت و تکنیک ، فارم اور موضوعات تخلیق کا روں نے پیش کیے۔ وقت کی تیز گامی اور بدلتی صورتوں کو بھی موضوع بنایاگیا۔اردو فکشن میں بہت سے تخلیق کاروں نے وقت کے جبر کوبیان کیا اور اس کے لیے انھوں نے مختلف استعارات وضع کیے۔ یہاں بھی سید محمد اشرف کی انفرادیت قائم ہے۔ انھوں نے ’’اندھا اونٹ‘‘کو وقت کا استعارہ بنا کر غیر معمولی افسانہ تخلیق کیا۔
اکرم اور یوسف دونوں بے حد قریبی دوست تھے۔ یوسف پڑھنے میں بہت ذہین تھا۔آٹھویں کلاس فرسٹ ڈویزن سے پاس تھا مگر تنگ دستی نے اسے اسکول چھڑا کر احمد آباد پہنچا دیا۔ یوسف اپنے دوست اکرم کی تحریر کی خوب تعریف کرتا تھا۔ بچھڑنے کے بعد دونوں اپنے اپنے کام مشغول ہوگئے۔ اکرم ہیڈ کلرک بن گیااور جب شعبہ شماریات میں اس کا ٹرانسفر ہوا تو یہاں اس کی رائٹنگ کو بہت خراب بتایا گیا۔ اس موقع سے اس نے اپنے دوست یوسف کو بہت مس کیا۔برسوں بعد جب اکرم یوسف سے ملا تو اس نے اپنی رائٹنگ سے متعلق سوال کیامگر اس پر غبار وقت کی اتنی تہیں جم چکی تھیں کہ وہ بچپن کی ساری یادیں کھوچکا تھا۔دونوں ماضی کے تصورات اورحسین ترین لمحوں میں گم ہوگئے۔ 
یوسف اکرم سے کہتا ہے ’’ابن رشد سے متعلق ایک کہانی پڑھ کر اکثر مجھے لگتا ہے کہ ایک اونٹ ہے۔ وہ اندھا ہے۔ اور وہ مجھے روندتا ہوا چلا جارہا ہے۔‘‘
’’رائٹنگ والی بات پر اب بھی اسے کچھ یاد نہیں آیا ۔ وہ اسی طرح بیٹھا رہا۔ پھر تھوڑی بعد بولا ’’وہ اندھا اونٹ تمھیں بھی پامال کرگیا۔‘‘
’’کھنڈر کے پار کھیتوں میں پھر کوئی گیدڑ رویا۔ ہم دونوں نے ادھر دیکھا۔ اور دیکھا کہ کھیتوں، باغوں، قصبوں، شہروں، اور ملکوں اور انسانوں کو روندتا ہوا ایک اندھا اونٹ بھاگا چلا جارہاہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوگئے اورسر جھکائے دیر تک وہیں بیٹھے رہے۔ ‘‘(5)

’’باد صبا کا انتظار‘‘ شاہکار علامتی اور استعاراتی افسانہ ہے۔اس کی بافت میں معنیاتی اور اسلوبیاتی لحاظ سے کئی پرتیں ہیں جو آسانی سے قاری پر نہیں کھلتیں اور وہ نارسائی کی منزلوں میں پیچ وتاب کھاتا رہتا ہے۔تاہم جب قاری پر علامتی دروازہ کھلتا ہے تو وہ جمالیاتی کیفیات سے انبساط حاصل کرتا ہے۔ اس افسانے میں ایک ’مریضہ ‘کو اردو کی زبوں حالی کی علامت بناکر اس کے پس منظر میں اردو کی تاریخی اور تہذیبی ارتقا اور اس کو در پیش مسائل کو کمال ہنرمندی سے بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے لیے افسانہ نگار نے دو مرکزی کرداروں پر اس کہانی کی نیو رکھی۔ ایک مریضہ اور دوسرا دراز قد بزرگ شخص اور ان دونوں کے مابین ایک ڈاکٹر ہے جس کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بنا گیا۔ڈاکٹر مریضہ کی تشخیص اور مکمل چیک اپ کے بعد اس کے تمام اعضا تندرست و توانا پاتا ہے۔ بس تنفسی نظام کی خرابی بتاتا ہے۔ یعنی اس کے ارد گرد کا دائرہ اتنا تنگ کردیا گیا ہے کہ اسے گھٹن اور سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی ہے۔ بزرگ شخص کی شناخت امیر خسرو کے طور پر کی گئی ہے جن کے بغیر اردو زبان کا وجود متصور نہیں۔اردو زبان کے تشکیلی مراحل میں صوفیاشہنشاہ اور عوام کی ملی جلی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا گیا اور انھیں اس افسانے میں شامل کر لیا گیا۔ سید محمد اشرف نے تاریخ زبان اردو کا پورا باب اس کہانی میں سمو دیا ہے۔ افسانوی کینوس پر اتنا بڑا پلاٹ تعمیر کرنا دریا کو کوزے میں سمانے کے مترادف ہے۔انھوں نے اردو زبان کی تہذیبی ولسانی ارتقا میں تعصب وتنگ نظری کوسدّ راہ قرار دیا اور تنفسی نظام کی افزائش کے لیے ’باد صبا ‘ کو ناگزیر قرار دیا۔آج اکیسویں صدی کی متعفن آب و ہوا میں’باد صبا کا انتظار‘اور شدید ہوجاتا ہے۔اردو مرثیہ خواں ہے کہ قاری نہ رہے۔ افسانہ نگار نے کتنی خوب صورتی سے مریضہ / اردو کا ہیولا تیار کیا ہے افسانے کے اقتباس میں ملاحظہ کریں: 
’’وہ ایک دراز قد نہایت حسین وجمیل خاتون تھی۔ اس کے بال ترکی نژاد عورتوں کی طرح سنہرے تھے جن سے عمر کی شہادت نہیں ملتی۔ اس کی پیشانی شفاف اور ناک ستواں اور بلند تھی۔ آنکھیں نیم وا اور سرمگیں تھیں۔ ہونٹ اور رخسار بیماری کے باوجود گلابی تھے۔ ہونٹ بھی نیم وا تھے اور سفید موتی سے دانت ستاروں کی طرح سانس کے زیر و بم کے ساتھ ساتھ رہ رہ کر دمک رہے تھے۔ شفاف گردن پر نیلگوں مہین رگیں نظر آرہی تھیں اور گردن کے نیچے کا عورت حصہ اٹھا ہوا اور مخروطی تھا۔ ساعد سیمیں کولہوں کے ابھار سے لگے ہوئے رکھے تھے۔‘‘(6)
ایک اور اقتباس دیکھیں:
’’ اس آواز میں میدان جنگ میں طبل پڑنے والی پہلی ضرب کی آواز کا ارتعاش بھی ہوگا۔ دو محبت کرنے والے بدن جب پہلی بار ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کرتے ہیں وہ نرم لذت بھری آواز بھی ہوگی ۔ ملا گیری رنگ کی عبا پہنے صوفی کے نعرہ مستانہ کی گونج بھی ہوگی۔ دربار میں خون بہانے کا فیصلہ کرنے اوالے بادشاہ کی آواز کی گرج بھی شامل ہوگی۔ صحراؤں میں بہار کی آمد سے متشکل ہونے والی زنجیر کی جھنک بھی ہوگی اور بنجر زمین پر پڑنے والے موسم برشگال کے پہلے قطرے کی کھنک بھی ہوگی۔ بربط، ستار اور طبلے کی۔۔۔‘‘(7)
افسانہ نگار نے ان میں کس خوبی سے اردو زبان کی دل کشی کے ساتھ ساتھ اس کی نغمگی اور تاریخی و تدریجی ارتقا کو بیان کیا ہے۔ایک ہی پیراگراف میں مرثیہ کا رزم، غزل کا عاشقانہ مزاج، صوفیا کی صدائے ھو حق اور بادشاہوں کا جاہ و جلال سب کچھ سمو دکر ایجاز کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔
علامت نگاری بجائے خود ایک آرٹ ہے جو ہر تخلیق کار کے بس میں نہیں۔ کہانی کی تخلیق سے پہلے مناسب علامت کی دریافت پہلا مرحلہ ہے۔ پھر اس کو کامیابی کے ساتھ کہانی کی فضا سے گزارناغیر معمولی صلاحیت کا متقاضی ہے۔ ورنہ تخلیق کار اس کے پیچ وخم میں الجھ کر خود ہی علامت بن جائے گا۔ چناں چہ وارث علوی علامت سازی کے عمل کو غیر شعوری قرار دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ’بلند ترین تخیل کے بہترین تخلیقی لمحات میں کوئی ایسی علامت جنم لیتی ہے جو اس اندھیرے کو منور کرتی ہے جس میں استدلالی فکر کو راستہ نہیں سوجھتا۔ ‘(8)

سید محمد اشرف نے فسانہ محبت کو ’تلاش رنگ رائیگاں‘ بنا دیا۔ 89 صفحات پر مشتمل نہایت طویل ترین افسانہ ہے جو افسانوی حدود کو پھلانگ کر ناولٹ کی سرحدوں میں داخل ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ اس کہانی میں محبت کے قوس قزح سے سات مختلف رنگوں کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔ ارشداس کہانی کا مرکزی کردار مختلف رنگوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔اس کی شخصیت نہایت پیچیدہ اور انا پرست ہے۔ پہلی بار ندی کے اس پار کسی دوپٹے کا رنگ ہوا میں لہراتا ہوا دیکھتا ہے جس کی شناخت تو وہ نہیں کرپاتا تاہم اخیر تک اس رنگ کی تلاش جاری رہتی ہے۔ واقعات کی ترتیب اور انداز پیش کش نے اس کہانی میں محبت کا رنگ اور بھی گہرا کردیا ہے۔ ارمل، غزالہ آپا، عائشہ اور اخیر میں گیتا ان سب میں وہ اپنا رنگ تلاش کرتا ہے مگر ناکامی ہی اس کے ہاتھ آتی ہے۔ اس کہانی میں ناکام محبت کے جذبات کی عکاسی خوب صورت پیرائے میں کی گئی ہے۔ تلاش رنگ رائیگاں ناکامی اور محرومی سے عبارت اور رنگوں کی آڑ میں دنیا کی بے ثباتی کی علامت ہے۔
بقول سارتر ادب کی تخلیق اخلاقی اور سیاسی عمل کے مترادف ہے۔ تخلیق کاراپنے تخیلات، محسوسات اور مدرکات کو یکجا کرکے روز مرہ کے واقعات / حادثات سے کہانی کشیدکرکے حقیقت کو افسانوی رنگ دیتا ہے۔مختلف بے جوڑ وقوعوں کو تخلیق کا ر جب کینوس پر بکھیر تا ہے تو اس سے بننے والی کہانیوں کو قاری دیکھ بھی سکتاہے اور محسوس بھی کر سکتاہے۔ادب تخلیق کرنا ایک سماجی عمل ضرور ہے تاہم اس میں ادیب کی انفرادی سرگرمی اور جذباتی ترسیل کا ر فرما ہوتی ہے۔ وہ زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد ہوکر ایسی فضا پیدا کرتا ہے جہاں ماضی ،حال اور استقبال ہم آہنگ ہوکر آفاقیت میں گم ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام صفات سید محمد اشرف کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔افسانہ ’کثرت آرائی وحدت‘ کا نام ہے جس میں منتشر خیالات کو کرداروں کے ذریعے ایک وحدت میں پروکر افسانہ نگار قاری پر ایک تاثرمرتب کرتا ہے۔
سید محمد اشرف کی کہانیوں کا سماجیاتی نقطہ نظر سے مطالعہ کیاجائے تو ان میں ہندوستانی قصبات کے متوسط گھرانے اور افراد،ان کا ماحول اور نفسیات،تہذیب اور اقتصادی حالات، کردار اور زبان مختلف صورتوں میں موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں خاک ہند کی سوندھی سوندھی اودھی اودھی خوشبو آتی ہے۔ چناں چہ قاری کو یک گونہ اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی کہانیوں کی بنت اور تراش خراش میں مجموعی تاثر اورارتکاز کا پاس و لحاظ رکھا ہے جو کسی بھی کہانی کے لیے روح افزا ہوتے ہیں۔اس حوالے سے محمد حسن رقم طراز ہیں:
’’مختصر افسانہ اپنی شدت تاثر کی وجہ سے مرکوز اور مجتمع تاثر ہوتا ہے اسی لیے اس کی حیثیت غزل کے اس شعر کی سی ہے جو مروجہ تلمیحات کے سہارے کے بغیر کہا گیا ہو۔ مختصر افسانے کی بنیاد ارتکاز پر ہے اس کا مجموعی تاثر جس قدر مرتکز ہوگا اسی قدر جامعیت کے ساتھ اپنی بات کو ذہن نشیں کراسکے گا اس لحاظ سے مختلف کرداروں کے باہمی رابطوں اور ان سے پیدا شدہ واقعات کی آمیزش سے جس مرکزی نقطہ ارتکاز تک مختصر افسانہ پہنچتا ہے وہی اس کی کامیابی کی دلیل ہے اور اسی قدر شدت سے وہ اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔‘‘(9)
سید محمد اشرف کی پرورش چوں کہ خانقاہی اور مذہبی ماحول میں ہوئی اسی لیے ان کی بیشتر کہانیوں میں آیت الکرسی، سورہ فاتحہ اورچاروں قل کا ورد اور فاتحہ درود کرداروں کی زبان پر جاری ہے۔ ان آیات اور مذہبی علامات کے ذریعے انھوں نے متوسط طبقہ افراد کی مذہبی عقیدت کو بیان کیا ہے نیز خوف ودہشت کی اس سائیکی کوبیان کیا ہے جس میں مصیبت اور ڈرکے وقت انسان آیات اور دعائیں پڑھ کر خود کو محفوظ تصور کرتا ہے۔ سید محمد اشرف نے اپنے افسانوں میں کسی خاص مذہب کی تبلیغ کی اور نہ ہی پند و موعظت کا کام لیا،بلکہ ’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘ کی سعی کی۔انسانی کردار اور نفسیات کی کجی اور خمیدگی کو آشکار کیا تاکہ وہ ان کہانیوں سے عبرت پکڑیں۔ 
یہاں پر سید محمد اشرف کا تخلیقی سوتا ترقی پسندی کے اس منشور سے جا ملتا ہے جس میں انفرادیت اور ترقی پسندیت کی تبلیغ واشاعت کے بجائے انسانیت اور اجتماعیت کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ انھوں نے فرد اور معاشرے کے باطن سے پردہ اٹھاکر ان کے دوہرے کردار کو واضح کرکے ظلم و جبر کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا۔ انسان کی باطنی کمزوری کی تصویر کشی اور ظاہر داری کا بھرم توڑنے کے لیے انھوں نے حیوانوں کا سہارا لیا۔ اس کا مقصدکردار کشی کے بجائے باطن کی تعمیر ہے۔ انسان دوستی کا جذبہ ہی انھیں افسانہ لکھنے پر آمادہ کرتا ہے جو سید احتشام حسین کے مطابق کسی بھی افسانہ نگار کے لیے بنیادی فریضہ ہے چناں چہ وہ لکھتے ہیں: 
’’انسانی کردار کا مصوراگر کچھ نہ ہو تو اسے انسانیت پرست اور انسان دوست تو ہونا ہی چاہیے۔ لطیف جذبات اور نازک احساسات کا یہ نقاش جسے افسانہ نگار کہاجاتا ہے۔ ظلم، جبر، ناانصافی، جہالت، بربریت، جنگ، لوٹ کھسوٹ، غلامی اور بیماری کو کیوں کر برداشت کر سکتاہے! اگر وہ بیمار نہیں ہے تو صحت مندی کو زیادہ پسند کرے گا اور اس بوڑھے کبڑے کی طرح صرف مارے حسد کے تمام انسانوں کو کبڑا دیکھنا پسند کرے گا۔ جس کا ذکر کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ صفات جن سے انسان انسان بنتا ہے اسے عزیز ہوں گی اور وہ انھیں عام ہوتا دیکھنا چاہے گا۔‘‘(10)
غرض کہ سید محمد اشرف کے بیسویں صدی کے اخیر میں لکھے گئے افسانوں میں اکیسویں صدی بالکل توانا نظر آرہی ہے۔انھوں نے جن مسائل و میلانات کو کہانی کا رنگ و روپ عطا کیا ہے وہ آج بھی ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں ۔ چناں چہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ان کے افسانے سدا بہار ہیں جو اردو کے افسانوی کائنات کے لیے کسی باد بہاری سے کم نہیں۔

حواشی
(1) آدمی، ڈار سے بچھڑے، ص 11
(2) سید محمد اشرف ’میرا تخلیقی تجربہ‘ ادب ساز دلی،اپریل تا جون، ص 169
(3) ساتھی، ایڈ شاٹ پبلی کیشنز ممبئی،2000، ص 11
(4) طوفان،ص47
(5) اندھا اونٹ باد صبا کا انتظار، ص 57
(6) باد صبا کا انتظار، ص 69
(7) ایضا، ص 72
(8)وارث علوی جدید افسانہ کا اسلوب، مشمولہ اردو افسانے کا سفر،مرتبہ نجمہ رحمانی ، ص 87-88
(9)اردو افسانے کی سماجیات، مشمولہ اردو افسانے کا سفر جلد دوم، نجمہ رحمانی، عرشیہ پبلی کیشنز نئی دہلی، 2015ص 593
(9) افسانہ اور حقیقت،مشمولہ اردو افسانے کا سفرجلد دوم، نجمہ رحمانی، عرشیہ پبلی کیشنز نئی دہلی،2015،ص 573
(10) افسانہ اور حقیقت،مشمولہ اردو افسانے کا سفرجلد دوم، نجمہ رحمانی، عرشیہ پبلی کیشنز نئی دہلی،2015،ص 573

Sunday, 17 September 2017

اردوشاعری میں تصوف



اردوشاعری میں تصوف:روایت اورمسائل
















امتیازرومی
+919810945177

تصوف ایک نظام حیا ت ہے جو انسانی قلوب واذہان کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کر کے اخوت و محبت ،تحمل و رواداری اور بقائے باہم کو جنم دیتاہے۔نفس انسانی کو اخلاقی رذائل سے پاک کر کے اشرف المخلوقات کا درجہ عطاکرتا ہے۔تصوف تزکیہ نفس اور باطنی تطہیر کا نام ہے۔ یوں تو ہر انسان کے شعور وجدان میں نیک وبد خیالات و جذبات پنہاں ہوتے ہیں تاہم حصول زر و زن اور ھل من مزیدکے احساسات ان کو لاشعور کی تہہ میں دفن کردیتے ہیں۔مگر وہی انسان جب انفعالی کیفیتوں سے دوچار اور اپنے کیے پر شرمسار ہوتا ہے تو اس کے نیک جذبات لاشعور کے دبیز پردوں کو چاک کر کے اس کا سہارا بنتے ہیں۔
تصوف کا بنیا دی مقصدچوں کہ تزکیہ نفس اور قرب خداوندی ہے چناں چہ یہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہاہے۔تصوف کو کسی نے نوافلاطونیت سے ماخوذ بتایا تو کسی نے بدھ مت سے ۔کسی نے یونانی فلسفہ کو اس کی بنیاد قرار دیا توکسی نے اسے رہبانیت کا پیش خیمہ بتایااور کسی نے اسلام کو اس کا سرچشمہ قراردیا۔اس بحث سے قطع نظر دنیا کے تمام مذاہب نے تصوف کو اپنے اپنے طور پراپنایا۔انسان کو اخوت و محبت ،تحمل و رواداری اور بقائے باہم کا درس دیا اور قلب ونظر کی آلودگی سے پاک کرکے بندے کوخداسے ملایا ۔یہی وجہ ہے کہ دربار صوفیا ہردور میں مرجع خلائق رہا ہے ۔

روایت

صوفیا سے جہاں نہاں خانہ دل اور ذہن وفکر روشن ہوئے وہیں زبان وادب اور تہذیب وثقافت نے بھی خوب استفادہ کیا۔شعرو ادب میں تصوف کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے نیزاس کی روایت بھی بہت قدیم ہے۔’’رابعہ بصری سے صوفیا کے اس سلسلے کا آغاز ہوتا ہے جس نے جمال خداوندی کو اپنا مقصود و مشہود،محبوب و مسجود جانا،اور عشق کی نسبت پر زور دیا ،در اصل اسی گروہ سے اس متصوفانہ شعر و ادب کا آغازہوتاہے جو آگے چل کر عربی ،فارسی اور اردو پر اثر انداز ہوا۔‘‘(1 )یہیں سے شعروادب کو تصوف کا سہارا ملا اور رفتہ رفتہ ایک مضبوط روایت قائم ہوگئی۔ تصور عشق نے فنا و بقا ،تسلیم ورضا،صبر و شکر،ہجر و وصال کو معنویت بخشی۔لیکن جب عربی شاعری زوال پذیر ہوئی تو یہ روایت فارسی میں منتقل ہو گئی۔فارسی شعرا نے تصوف کو موضوع سخن بنایا۔فارسی کے پہلے صوفی شاعر سعید ابو الخیرسے لے کرسنائی،اوحدی،عطار،رومی ،سعدی اور حافظ جیسے عظیم المرتبت شعرا نے ایک صحت مند روایت کی بنیا د ڈالی۔ فارسی شاعری نے مئے تصوف کو دو آتشہ بنا دیا ،جس سے ایک طرف سلوک و معرفت کے سوتے پھوٹے،تودوسری طرف عشق مجازی اور انسان دوستی کی شدت نے کفرو ایمان کے نزاع کو مذہبی تنگ نظری قرار دیا۔
اردو زبان کی نشو و نما انہیں روایات کے زیر اثر ہوئی ۔شعرو ادب نے ان کی پاس داری بھی کی اور ہندوستان کی تہذیبی اقدار سے ہم آہنگ کرکے انہیں وسیع بنیادوں پر استوار بھی کیا ۔اردو کا خمیر مشترکہ تہذیب و اقدار سے تیار ہوا ،صوفیا نے اس میں روح پھونکی، زندگی کی توانائیاں بخشی اورمحبت ورواداری کا عنصر شامل کیا ،جس سے اردو زبان کو استحکام ملا اور وہ قابل اعتنا بن گئی۔
ہندوستان میں اسلام اورصوفیا کی آمد نے یہاں کی زبان اور تہذیب و ثقافت کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ حضرت داتا گنج بخش ہجویری اولین بزرگ ہیں جو ہندوستان تشریف لائے ۔ ان ہی کے دم قدم سے باقاعدہ تصوف کی داغ بیل پڑی اور مشترکہ تہذیب کو فروغ ملا۔تاہم خواجہ معین الدین چشتی پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے ہندوستانی زبان میں بھی دعوت و تبلیغ کے فرائض انجام دیے۔ بعدمیں ان کے خلفانے اسی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ۔مولوی عبدالحق نے بابا فرید سے منسوب ایک غزل نقل کی ہے:
وقت سحر وقت مناجات ہے
خیز دراں وقت کہ برکات ہے
با تن تنہا کہ روی زیر خاک
نیک عمل کن کہ وہی سات ہے
چوں کہ صوفیاکا منشا خیر کی دعوت اور شرسے گریز تھااس لیے انہوں نے عوامی زبان کو وسیلہ اظہار بنایا۔لہذاانہیں کے توسل سے اس زبان میں مسائل تصوف در آئے۔اردو شاعری میں تصوف کا نقطہ آغاز یہی ہے ۔
اردو شاعری میں تصوف کی روایت پر نظر ڈالنے سے کئی طرح کے شاعر سامنے آتے ہیں۔ایک صوفیا ،جن کا اصل مقصد دعوت و تبلیغ ہے۔ شعرکو انہوں نے محض پیغام رسانی یا قلبی واردات کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ جیسے میراں جی شمس العشاق،برہان الدین جانم،امین الدین اعلی،شاہ نیاز بریلوی،شاہ تراب علی قلندر،مرزا مظہر جان جاناں،خواجہ میر درد وغیرہ۔دوسرے وہ شاعرجومکمل صوفی تو نہیں تھے تاہم ان کے مزاج میں متصوفانہ خیالات تھے جو شعری قالب میں ڈھلتے گئے۔ جیسے ولی ،میر،غالب اور اقبال وغیرہ نیزاردو کے تقریبا تمام شاعروں نے ’’تصوف برائے شعر گفتن خوب است‘‘کومد نظر رکھتے ہوئے تصوف کو موضوع سخن بنایا ۔اول الذکر (صوفیا)میں خوجہ بندہ نواز گیسو دراز ، شیخ حمیدالدین ناگوری،شیخ شرف الدین احمد یحی منیری، بابا فریدالدین گنج شکر اور بو علی قلند ر پانی پتی وغیرہ کے اشعار ملتے ہیں،جو اردوزبان کی ابتدائی شکل ہے۔ تاہم آج بھی وہ اشعار شکوک و شبہات کے دائرے میں ہیں کہ آیا وہ ان کی اپنی تخلیق ہیں یا پھر ان کے نام سے منسوب۔
اردو شاعری کے اولین نقوش امیر خسرو کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔خسرو ،ہند ایرانی تہذیب کے نمائندہ ہیں۔فارسی کے علاوہ انہوں نے ہندوستانی زبانوں میں بھی شاعری کی ہے ،جن میں مختلف علاقوں کی بولیاں شامل ہیں۔البتہ ان کے یہاں کھڑی بولی کا غلبہ ہے جو اردو زبان کی پیش رو ہے۔ذیل کے اشعار ملاحظہ ہوں:
زحال مسکیں مکن تغافل دو رائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں نہ دارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلش چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
خسرو نے ہندوستانی موسیقی کے بھی تانے بانے بنے اورشاعری میں ایک نئی طرح ڈالی ،جسے بعد کے صوفیا اور شعرا نے پروان چڑھایا۔اسی زمانے میں تصوف خالص ہندوستانی تہذیب واقدار میں ڈھل کر بھگتی تحریک کی شکل میں نمودار ہوا۔رام بھکتی اور کرشن بھکتی کے زیر اثر نام دیو،کبیرداس،تلسی داس،میرابائی،سورداس،ملک محمد جائسی وغیرہ نے صوفیانہ خیالات کو شعری پیرائے میں بیان کیا۔کبیرداس کہتے ہیں:
میرا مجھ میں کچھ نہیں،جو کچھ ہے سو تیرا
تیرا تجھ کو سونپتے کہا لاگے میرا
ان صوفیوں اور سنتوں کی زبان آگے چل کر ہندوی زبان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔چناںچہ ڈاکٹر وحید اختر رقم طراز ہیں:
''صوفیا کے اس طرز عمل کی وجہ سے ہی اردو کی تشکیل ہوئی چناں چہ اردو کے تشکیلی دور کو ادب کا جائزہ بتاتا ہے کہ ابتدائی ادبی کا وشیں،خواہ وہ شاعری میں ہوںیا نثر میں،اکثر صوفیا ہی کی مرہون منت ہے۔'' (2)
اردو شاعری کے اولین نقوش گجرات اور دکن میں کثرت سے ملتے ہیں۔گجرات میں شیخ بہاء الدین باجن،شاہ علی جیو گام دھنی،قاضی محمود دریائی اور خوب محمد چشتی خاص طور سے قابل ذکر اور لائق احترام ہیں۔یہ تمام صاحب حال بزرگ تھے ۔موسیقی سے انہیں گہرا لگاؤ تھا ۔متعدد راگ راگنیا ں ان کی مرہون منت ہیں۔
اردو شعر و اد ب کے حوالے سے دکن کو نظم و نثر دونوں میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد ،جن ریاستوں نے اردو شعر و ادب کو استحکام بخشا ان میں بیجا پور اور گولکنڈہ بہت اہم ہیں۔بیجا پور کے صوفیا میں تین خانوادوں نے وہاں کی تہذیبی و لسانی زندگی کوبہت زیادہ متا ثر کیا اور عوامی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کیے۔’ایک شیخ عین الدین گنج العلم کے مریدوں کا سلسلہ ہے،دوسرا خواجہ گیسو دراز کے خلفا کا سلسلہ اور تیسرا میراں جی شمس العشاق کا سلسہ‘۔(3) ان بزرگوں نے متصوفانہ خیالات اور راہ سلوک کے باریک نکات اردو زبان (قدیم دکنی) میں نظم کیے ہیں۔اس عہد میں تصوف کا اثر اتنا گہر اتھا کہ عام شعرا بھی تصوف کا رنگ اپنانے پر مجبور تھے،جن کا تصوف سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔
میراں جی شمس العشاق کا دکنی کلا م دستیاب ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سلوک و معرفت کے اسرار و رموز بیان کرنے ہی کے لیے شاعری کی ہے۔انھوں نے فارسی زبان کو ہندوستانی میں اس طرح مدغم کردیا کہ وہ خالص ہندوی بن گئی ،نیز ہندی اوزان وبحور کے علاوہ ہندی روایت کو بھی بطور استعارہ و تشبیہ استعمال کیا ۔ان کے صاحبزادے برہان الدین جانم نے اسی روایت کی توسیع کی اور امین الدین اعلی نے اس میں مزید نکھار پیدا کیااور زبان وبیان کی سطح پر بھی قدرے بہتری آئی۔
گولکنڈہ میں بھی اردو شاعری کو خوب فروغ ملا ۔قلی قطب شاہ پہلا صاحب دیوان شاعر تسلیم کیا گیا۔وجہی،غواصی اور نشاطی وغیرہ نے بھی شاعری کی ،جن میں روایتی اورمجازی عشق تو نمایاں ہے۔ تاہم تصوف کی بو باس بھی ان میں خوب موجود ہے۔اب تک جن شعرا کا ذکر ہو ا ان میں بیش تر خود صاحب حال بزرگ تھے اور باقی ماندہ انہیں کے پیروکار ۔لہذا ان کی شاعری میں رنگ تصوف غالب ہے۔
شمالی ہند میں اردو شاعری اب تک نا قابل اعتناتھی۔کلام ولی نے یہاں کے شعرا کو بے حد متاثر کیا ،چناں چہ وہ اردو شاعری کی طرف مائل ہو گئے۔ولی کے سامنے اردو شاعری کی ایک صحت مند روایت تھی ،جو صوفیا وامراکے توسل سے ان تک پہنچی تھی اور زبان بھی بہت حد تک صاف ہو چکی تھی اس کا فائدہ ولی نے اٹھایا اور وہ اردو شاعری کے ’بابا آدم ‘بن گئے۔ولی کی شاعری کا غالب رجحان تصوف نہ سہی مگر ایک اہم رجحان ضرور ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی وہ تمام روایتیں موجود ہیں جن کے ڈانڈے فارسی کے متصوفانہ اشعار سے جا ملتے ہیں:
اے ولی جب نظر میں وہ آیا
نقش سب ماسوا کے ہوگئے حک
...................
ہر ذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی
یوں بوجھ کہ بلبل ہوں ہر ایک غنچہ وہاں کا
...................
مشق کر اے دل صدا تجرید کی
عاشقی ہے ابتدا توحید کی
ولی عشق مجازی کو عشق حقیقی کا اول زینہ قرار دیتے ہیں:
در وادی حقیقت جن نے قدم رکھا ہے
اول قدم ہے اس کا عشق مجاز کرنا
...................
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
تصوف کا زیادہ گہرا رنگ ولی کے ہم عصر سراج اورنگ آبادی کے یہاں نظر آتا ہے۔سراج کے نہاں خانہ دل میں جو ہنگامہ برپاتھاوہی عشق و سرمستی کا بے قرار نغمہ بن کر ان کی شاعری میں ظاہر ہو ا۔جذب و سر مستی کے عالم میں جو راگ الاپا وہ نغمہ سرمدی بن گیا:
خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی
شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے وہ لباس برہنگی
نہ جنوں کی پردہ دری رہی نہ خرد کی بخیہ گری رہی
چلی سمت غیب سے اک ہوا کہ چمن سرور کا جل گیا
مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہیں سو ہری رہی
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی
شمالی ہند کے شعرا میں مرزا مظہر جان جاناں وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے اردو شاعری میں مضامین عشق کو صوفیانہ رنگ دیا۔مرزامظہر صوفی مشرب اور درویش صفت تھے ۔پیری مریدی کا سلسلہ بھی ان سے قائم تھا۔تصوف سے وابستگی ان کے کلا م میں گہرائی اورمعنویت پیداکردیتی ہے:
تجلی گر تیری پست و بلنداں کو نہ دکھلاتی
فلک یوں چرخ کیوں کھاتا زمیں کیوں فرش ہوجاتی
...................
سحر اس حسن کے خورشید کو جاکر جگا دیکھا
ظہور حق کوں دیکھا خوب دیکھا با ضیا دیکھا
خواجہ میر دردمتصوفانہ شاعری کی اس روایت کے امین ہیں جو فارسی شاعرعطار ،رومی اور جامی کے ذریعہ اردو میں منتقل ہوئی۔شاعری درد کے نزدیک ذریعہ معاش تھی اور نہ ہی باعث عزت ۔بلکہ دلی جذبات و کیفیات کا برملا اظہار شاعری کا سبب بنا ’’درد نے جس طرح مضامین معرفت و سلوک و تصوف کو شاعری میں سمویا ہے اس کی مثال اردو شاعری میں تو کم سے کم نہیں مل سکتی۔‘‘(4) یہ قول مبالغہ آمیز ضرور ہے تاہم مکمل دروغ نہیں۔کیوں کہ درد نے سادہ لفظوں میں جتنی بڑی بات کہہ دی ہے اس کی مثال شاید مشکل ہے۔
ارض و سماں کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
...................
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
...................
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
میر صوفی شاعر تونہیں ہیں مگر ان کی شاعری میں متصوفانہ خیالات بہ کثرت ملتے ہیں۔میر کی شاعری دردو غم رنج و الم اور عشق و محبت کا ذخیرہ ہے۔ ان کو عشق کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا:
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم میں بھر گیا ہے عشق
میرکی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں:
''میر کے احساس کی شدت اور اس کے ساتھ گہرے انسانی شعور نے ان میں ایک آفاقی اور کائناتی رنگ پیدا کردیا ہے،اسی لیے ان کا اثر ہمہ گیر و لازوال ہے،عشق وعاشقی کی مختلف کیفیات اور جذبات واحساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ میر کی غزل میں تصوف اور اس کے مسائل کی ترجمانی بھی کم نہیں ہے۔''(5)
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا 
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا 
...................
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا ہو دیا سومناتھ کا 
...................
میر کے دین و مذہب کو پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
خواجہ حیدر علی آتش نے لکھنو کی رنگین فضامیں رہ کر بھی صوفیانہ زندگی بسر کی ہے۔آتش کو تصوف سے قلبی لگاؤ تھا اور صاحب حال صوفی تھے۔
ما سوا تیرے نہیں رہنے کو کچھ یاں باقی
جو ہے فانی ہے، تیری ذات ہے الا باقی
...................
کون عالم میں ہے ایسا جو نہیں سر بسجود 
کس کی گردن کو جھکاتا نہیں احساس تیرا
غالب کے یہاں مسائل تصوف کو جس قدر فلسفیانہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے اس کی مثال اردو شاعری میں نا یا ب ہے۔غالب کی بادہ خواری نے انہیں ولی بننے سے باز رکھا۔خود غالب کہتے ہیں:

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب 
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب نے مسائل تصوف کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
...................
طاعت میں تا،رہے نہ مئے انگبیں کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
...................
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
...................
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
کردیا کافر، ان اصنام خیالی نے مجھے
...................
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
بلاشبہ کلام غالب میں جو معنویت اور تہہ داری ہے وہ کسی اور کے یہاں نہیں۔غالب کے کلام میں متصوفانہ مباحث کو دیکھتے ہوئے بعض نے انہیں صوفی بھی کہاہے۔ ’’غالب کے صوفیانہ اشعار فی الحقیقت گنجینہ معنی کا طلسم ہیں۔‘‘(6)
اقبال کا مرد مومن خودی کو بلند کرنے کا پیغام دے رہا ہے،چناں چہ انہوں نے خودی کا فلسفہ پیش کیا یعنی عرفان ذات ہی میں کامیابی کا رازپنہاں ہے۔اگرانسان خودی کو دریافت کر لے تو مکاں سے لامکاں تک اس کے سارے حجابات اٹھ جائیں گے اور اس کی مرضی خدا کی مرضی بن جائے گی ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدابندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
...................
خودی کا سرّ نہاں لاالہ الااللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الااللہ
...................
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
عشق اقبال کی شاعری کا منبع و سر چشمہ ہے ،انہوں نے عشق کو عقل پر ترجیح دی ہے اور ساتھ میں یہ مشورہ بھی:
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل 
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑیے 
اقبال کی پور ی شاعری عرفان ذات ،حرکت و عمل ،تلاش و جستجو،گلہ شکوہ کے محور پر گردش کر رہی ہے کہ شاید انسان شاہین صفت اور مرد مومن بن جائے تاکہ خدابندے سے خود اس کی رضا دریافت کرے۔اقبال کی شاعری متصوفانہ خیالات سے مملو ہیں تاہم انہوں نے ان صوفیوں کو بھی طنز کا نشانہ بنایا ہے جو لوگوں میں مایوسی پیدا کرکے انہیں حرکت و عمل سے بیزار اور انفعالی کیفیتوں سے دوچار کر دیتے ہیں ۔
اصغر گونڈوی کی شاعری میں ’’تصوف یا فلسفہ ہر صفحے پر روشن ہے ‘‘۔(7) انہوں نے تصوف کے اسرار و رموز کوشعری پیرایے میں بہ خوبی پیش کیاہے۔چوں کہ اصغر خود صوفی مشرب تھے اس لیے ان کے کلام میں تصوف کا گہرا رنگ پایاجاتاہے۔
جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے
پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
لو شمع حقیقت کی اپنی ہی جگہ پر ہے
فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
...................
بس اک سکوت ہے طاری حرم نشینوں پر
صنم کدے میں تجلی ہے اور پیہم ہے
...................
تیرا جمال ہے، تیرا خیال ہے، تو ہے
مجھے یہ فرصت کاوش کہاں کہ کیا ہوں میں

غرض کہ کلاسیکی شعرا سے لے کر ،ترقی پسند ،جدید اور مابعد جدیدکے تقریباتمام شعرا کے یہاں تصوف کے اشعار ملتے ہیں۔جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردومیں متصوفانہ شاعری کی ایک قدیم، توانا اور صحت مند روایت قایم ہے جس کا سلسلہ ہنوزجاری ہے۔

مسائل ومباحث

بعض مفکر و مورخ تصوف کو فلسفہ سرّیت اور ویدانت سے بھی ماخوذ مانتے ہیں جوکہ سراسر غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔البتہ اس میں سرّیت اور ویدانت کے بعض عناصر پائے جاتے ہیں تاہم تصوف کا اصل منبع و سر چشمہ قرآن و حدیث ہی ہیں۔آگے چل کر اس میں فلسفیانہ مباحث بھی داخل ہوگئے اور وجود باری کو لے کر صوفیا دو گروہ میں بٹ گئے ۔ایک وجودی کہلائے اوردوسرے شہودی ۔
اسلام کے ابتدائی دور میں صرف توحید کا تصور تھا ،جو آٹھویں صدی عیسویں تک قائم رہا ۔مگر جب اس میں فلسفہ داخل ہو گیا تو وحدۃالوجود اور وحد ۃالشہود کا مسئلہ درپیش آیا ۔نظریہ وحدۃ الوجود کی بنیاد توحید پر ہے تاہم اس پر سرّیت کا تصور بھی اثر انداز ہو ا۔ جیسا کہ ڈاکٹر سلام سندیلوی رقم طراز ہیں:
''حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا فلسفے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مگر جب اسلام پر یونانی فلسفے کا اثر پڑا تو اس میں بہت سے نئے خیالا ت داخل ہوگئے۔چناں چہ مسئلہ وحدۃ الوجود کا تعلق کسی نہ کسی حد تک فلاطینوس کی سرّیت سے ہے اگرچہ بنیادی طور پریہ فلسفہ اسلامی توحید ہی سے ماخوذ ہے۔'' (8
)
وجود باری،حسن وعشق،فقر وغنا،تسلیم ورضا،خیر وشر اور جبر وقدرتصوف کے بنیادی مسائل ہیں۔تاہم ان میں وجود باری کو سب سے زیاد ہ اہمیت حاصل ہے۔چوں کہ زیر نظر مقالہ میں تصوف کے ان تمام مسائل کو پیش کرپانانہایت مشکل امرہے چناں چہ وجود باری پر ہی گفتگو کی جائے گی ۔وجود باری کو لے کر صوفیا دو گروہ میں بٹ گئے۔ایک تصور وحد ۃالوجود کے قائل ہوئے اور دوسرے تصور وحد ۃ الشہود کے ۔ حالاں کہ دونوں کا مقصود ایک ہی ہے ،بس نظریہ جدا ہے ۔وجودی تمام اشیا کو خدا کا عین تصور کرتے ہیں۔جب کہ شہودی انہیں غیر مانتے ہیں۔

تصوروحدۃالوجود


وحدۃ الوجود کے ابتدائی نقوش ذوالنون مصری ،بایزید بسطامی اور جنید بغدادی کے یہاں ملتے ہیں۔ تاہم شیخ محی الدین ابن عربی وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے نظریہ وحدۃ الوجود کوبا قاعدہ طور پر عقلی و نقلی دلائل وبراہین سے ثابت کیا اور اس نظریہ کو تقویت بخشی۔در اصل صوفیا کو عالم وجد میں ہر شے میں خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے اسی بنیاد پر اس نظریہ کا جنم ہو ا۔ 
اردو شاعری میں تصور وحدۃ الوجود فارسی کے راستے سے داخل ہو ااور رفتہ رفتہ ہندوستانی مزاج میں ڈھل گیا ۔چوں کہ اردو شاعری کے ابتدائی نقوش دکن میں ملتے ہیں چناں چہ اس نظریے کے اولین نمونے بھی وہیں پائے جاتے ہیں۔میراں جی کا یہ شعر دیکھیں:
تجھتے ہی قدرت کوں زور، تجھتے نور نورانا
تجھتے سب کا سبھی پنا، تج بن سب ہیں بیگانہ
ان کے بعد جانم نے توحید وجودی کے فروغ میں قابل قدر کارنامہ انجام دیا۔’’توحید وجودی کا ماحصل یہ ہے کہ خدا ئے لم یزل ہر شے میں جاری وساری اور ہر شے پر حاوی ہے وہ ذرہ ذرہ میں جلوہ نما ہے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔رنگ ،بواور نور کی شکل میں وہی اورصرف وہی ہے۔اس کا ظہور مکان میں بھی ہے اور لامکان میں بھی۔‘‘ (9)
جانم کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سب میں تو وہ دستا ہے
سب تھے الپت بستا ہے
...................
ہر اک شئے میں دیکھ بچار 
محیط دسے ٹھارے ٹھار
چوں کہ وحدۃ الوجود کا نظریہ اس زمانے کاایک عمومی اور صوفی شعرا کے نزدیک مقبول ترین نظریہ تھا اس لیے تمام شعرا نے اسے موضوع سخن بنایا۔شیخ غلام محمد داول ،امین الدین اعلی،بحری اور بعد کے ادوار میں ولی نے اسے خوب صورتی سے پیش کیا ۔ یہ اشعار دیکھیں:

کہے ایک دریا ہے موجاں ہزار
ابلتے ہیں موجاں کے فوجاں ہزار
(بحری)
عیاں ہے ہر طرف عالم میں حسن بے حجاب اس کا 
بغیر از دید ۂ حیراں نہیں جگ میں نقاب اس کا
...................
ہر ذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی
یوں بوجھ کے بلبل ہوں ہر اک غچہ وہاں کا 
(ولی)

سراج کے سوزش عشق نے خیال من و تو کو خاکستر کردیااو ر’’ تو ہی تو‘‘ کانعرہ بلند کیا۔ ان کی پوری شاعری متصوفانہ خیالات سے مملوہیں۔

تیرے جوش حیرت حسن کا اثر اس قدر سیں یہاں ہوا
کہ نہ آئینے میں جلا رہی نہ پری کوں جلوہ گری رہی
...................
الہی پردۂ کثرت اٹھا دے
شراب ساغر وحدت پلادے
(سراج)
اردو شا عری میں تصوف ’’برائے شعر گفتن خوب است ‘‘کے طور پر زیادہ تر شعرا نے ا سے موضو ع سخن بنا یا ۔ سیاسی انتشار اور عدم تحفظ کا جواحساس تھا اسے تصوف کا سہارا ملا ۔جمیل جالبی رقم طراز ہیں:
''تصوف نے برباد معاشرے کو پناہ دے کر اسے خود آگاہی اور عرفان ذات کا راستہ دکھایا تھا ۔اسی طرح اس دور میں تصوف نے زخمی روح کو امید کی روشنی دکھائی ۔اس دور میں تصوف بے عملی کا فلسفہ حیات نہیں تھا بلکہ با معنی اور با مقصد طور پر زندہ رہنے کا نیا حوصلہ دینے کا وسیلہ تھا۔ یہی سبب ہے کہ غم و ا لم کے ساتھ بے ثباتی دہر ،فنا ،تسلیم و رضا اور تصوف کے دوسرے نکات بھی شاعری کے عام موضوعات بن گئے جنہیں میر اور درد نے اس طرح پیش کیا کہ ان کی آواز میں سب کی آواز شامل ہوگئی''(10)
میر تقی میر ،میر اثر ،سودا،میر سوز وغیرہ نے بے جان معاشرے میں تصوف کی بصیرت افروزی پر زور دیا ۔ میرنے بھی تصوف کو وسیلہ اظہار بنایااور وحدۃالوجودکے گیت گائے۔ان کی شاعری میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں ۔یہ اشعار دیکھیں:
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور 
شمع حرم ہو یا ہو دیا سومناتھ کا
...................
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
درد کی شاعری میں عشق حقیقی کا درد پوشیدہ ہے ۔یہی وجہ کہ انہوں نے تصوف کے مسائل پر کھل کر بحث کی ہے اور انہیں اپنی شاعری میں پرویاہے ۔درد کا یہ دعوی کہ ان کا سارا کلام نظم و نثر القائے ربانی ہے ،بالکل درست ہے :
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا 
توہی آیا نظر آیا جدھر دیکھا
حجاب رخ یار تھے آپ ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردہ نہ دیکھا
...................
ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
...................
اگر نہاں ہے تو ہے وگر عیاں ہے تو ہے
غرض کہ دیکھ لیا میں جہاں تہاں تو ہے
غالب وحدۃ الوجودی عقیدہ رکھتے تھے۔انھوں نے فلسفہ تصوف کو فکری سطح پر بلند آہنگی عطاکی اور نظریہ ’’ہمہ اوست ‘‘کو تقویت بخشی۔چناں چہ ان کے یہاں بھی اس کی با ز گشت سنائی دیتی ہے تاہم ان کو منصور کی تقلید منظور نہیں:
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن 
ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں
...................
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
...................
دل ہر قطرہ ہے ساز اناالبحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
...................
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود
قبلہ کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
اقبال کی پوری شاعری میں پیغام ہے یا فلسفہ۔ ابتدا میں اقبال نظریہ وحدۃ الوجود کے خلاف تھے اور انہوں نے ابن عربی کو اس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔مگر بعد میں وہ اس کے قائل ہوگئے:
خرد ہوئی ہے زمان ومکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں لاالہ الااللہ
محرم نہیں ہے توہی نواہائے راز کا 
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا 
اصغر کی شاعری کا نمایاں عنصر تصوف ہے۔ان کی شاعری میں تصوف کے تمام پہلو ملتے ہیں۔ان کے یہاں بھی اس کائنات میں صرف خدا کے جلوے نظر آتے ہیں اور کائنات کے سارے نقوش محض وہم و فریب ہیں۔اصغرنے اس خیال کو شاعرانہ نزاکت کے ساتھ بہت خوب صورتی سے پیش کیاہے:
جو نقش ہے ہستی کا دھوکہ نظر آتا ہے
پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے
لو شمع حقیقت کی اپنی ہے جگہ پر ہے
فانوس کی گردش سے کیا کیا نظر آتا ہے
مذکورہ شعرا کے علاوہ نظیر اکبرآبادی،شاہ نیاز بریلوی،غلام ہمدانی مصحفی اور فانی بدایونی وغیرہ کے یہاں بھی مسائل تصوف کا بیان ہو ا ہے اور نظریہ ہمہ اوست کی خو ب صورت عکاسی ہوئی ہے:
تعینات کے نقطوں سے ہے کثیر احد
وہی ہے ایک یہ دس سو ہزاری لکھ کروڑ
...................
معمور ہو رہا ہے عالم میں نور تیرا 
از ماہ تا بہ ماہی سب ہے ظہر تیرا
(شاہ نیاز بریلوی)
اے مصحفی شانیں ہیں مری جلوہ گری میں
ہر رنگ میں میں مظہر آثار خدا ہوں
(مصحفی)
کس کو کہیے ماسوا جب تو نہیں تو کچھ نہیں
تو نظر آیا تو ایک عالم نظر آیا مجھے
(فانی بدایونی
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا
(جگر)
وہ ہی وہ ہیں مگر ظہور نہیں
اس طرح دور ہیں کہ دور نہیں
(فانی)
سچ ہے کسی کی شان یہ اے نازنیں نہیں
تو ہر جگہ ہے جلوہ گر اور پھر کہیں نہیں
(اکبر)

تصوروحدۃ الشہود

اس نظریے کا ماحصل یہ ہے کہ اشیائے کائنات خداکا غیر اور قائم بالذات ہیں۔حالاں کہ ان دونوں کا مقصود ایک ہی ہے محض نظریات میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ میردرد ان دونوں نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طرازہیں:
''اگر اس نزاع پر انصاف کی نظر سے غور کیا جائے اورتعصب کو راہ نہ دی جائے تحقیق کی نظر نیک ہواور کسی فریق کے ساتھ جانب داری نہ برتی جائے تومعلوم ہوگاکہ دونوں فریقین کا مآل ایک ہی ہے۔نزاع صرف لفظی ہے اور دونسبت والوں کی کیفیت حال میں اختلاف نہیں۔سب کا حاصل قلب کو گرفتاری ماسواسے آزاد کرنا ہے اور حق تعالی سے توکل اختیار کرنااس لیے کہ توحید وجودی اور اس کا مآل یہی ہے کہ شہود میں غیر نظر نہ آئے اور توحید شہودی جلوہ فرما ہو......وحدت شہود کا حاصل یہی ہے کہ وجود ہمہ موجودات کوایک وجود مطلق کے نور میں گم کر دیاجائے اور کثرت اعتباریہ شہود میں مخل نہ ہواور ان کا وجود نظر میں نہ آئے۔''(11)
جب وحد ۃالوجود کے نام پر لوگ گمراہی میں مبتلا ہونے لگے تو ابن قیم اور شیخ سر ہندی نے وحدۃالشہود کو تقویت بخشی اور اس کے ذریعے ان کا جواب دیا۔ جہاں تک اردو شاعری کا سوال ہے تو چوں کہ بیش تر اساتذہ سخن نے شعوری یا لا شعوری طور پر تصور وحدۃالوجود سے اتفاق کیا ہے اس لیے اس موضوع کو بہت کم برتا گیا ہے۔بعض اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جن میں وجودی اور شہودی دونوں پہلو موجود ہیں۔امیر خسروکا یہ شعر دیکھیں
سب سکھین کا پیا پیارا
سب میں ہے اور سب سوں نیارا
یعنی وہ سب میں موجود بھی ہے اور سب سے منفرد بھی
سودا کہتے ہیں:
سودا نگاہ دیدہ تحقیق کے حضور
جلوہ ہر ایک ذرہ میں ہے آفتاب کا
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
موسی نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا
...................
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا 
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تا
(میر)
مذکورہ اشعار کی تشریح دونوں حوالوں سے کی جاسکتی ہے۔اگر خدا کا وجود بالذات مان لیں تو یہ وحدۃ الوجود کے زمرے میں چلاجائے گااوراگر خدائی نور کا ظہور فرض کرلیں تو یہ وحدۃ الشہود کہلائے گا۔
میر انیس ان دونوں کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو
آنکھیں جسے ڈھونڈتی ہیں وہ نور ہے تو
نزدیک رگ جاں سے اور اس پر یہ بعد
اللہ اللہ ! کس قدر دور ہے تو
اس لفظی نزاع کو دیکھتے ہوئے کبر الہ آبادی کا یہ شعر یاد آتا ہے:
بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
تودل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

حاصل کلام

مذکورہ مباحث سے ا اندازہ ہوتاہے کہ اردو شاعری میں تصوف کی روایت نہایت قدیم ہے ۔بلکہ جب سے اردو شاعری کا وجود ہے تب ہی سے اس میں مسائل تصوف کاورود ہے ۔در اصل تصوف ایک کل ہے اور وجود باری،حسن وعشق،فقروغنا،فنا و بقا،تسلیم ورضا، صبر وشکر، خیر وشراورجبر وقدراس کے اجزا ہیں۔قرب خداوندی اور انسان دوستی اس کا منشور ہے۔اردو شاعری میں تصوف فارسی کے توسل سے وارد ہوااوراردو کے بیش تر شعرا نے ان مسائل کو موضوع سخن بنایا۔ واضح رہے کہ تصوف میں جب فلسفیانہ مباحث داخل ہوئے توتصور وحدۃ الوجود اورتصور وحدۃ الشہود سامنے آیا ۔ چوں کہ زیادہ تر شعرا توحیدوجودی کے قائل رہے ہیں اس لیے اس نظریہ کابیان کثرت سے ہوا ہے۔نیزبعض اشعار ایسے بھی ہیں جن میں دونوں نظریے پائے جاتے ہیں ،بس تشریح وتوضیح کا فرق ہے ۔ اس کے علاوہ جوتصوف کے مسائل ہیں مثلا فقر وغنا،تسلیم ورضا،بے ثباتی دہراور فنا وبقاوغیرہ ان پر تقریبا تمام شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔
ابتدا ہی سے اردو شاعری کے دواہم موضوعات رہے ہیں ۔ایک حسن و عشق اور دوسرا تصوف۔ عشق تمام شعرا کا موضوع سخن بنا اورتصوف صوفیا کاخاص میدان رہا۔دیگر شعرا نے ’تصوف برائے شعر گفتن خوب است ‘کے طورپر اس موضوع کو استعمال کیا۔ صوفیا نے ان دونوں موضوعات کو بخوبی برتا۔تاہم بعض کے یہاں سوزش عشق ناپید رہی اوروہ عشق مجازی کی وادیوں میں بھٹکتے رہے،جب کہ بعض شعرا ان وادیوں سے گزر کر عشق حقیقی کی سرحدوں میں داخل ہوگئے۔

حوالہ جات

ڈاکٹر وحید اختر،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجمن ترقی اردو ہند علی گڈھ ص229
ایضا ص 287
3۔ایضا ص296
4۔ایضا ص311
5۔ڈاکٹر عبادت بریلوی،غزل اور مطالعہ غزل،ص273
6۔سید محمد مصطفی صابری،غالب اور تصوف،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی،ص12
7۔بحوالہ ڈاکٹر سلام سندیلوی،تصوف اور اصغر گونڈوی،نسیم بک ڈپو لکھنو ،ص4
8۔ڈاکٹر سلام سندیلوی ،تصوف اور اصغر گونڈوی،نسیم بک ڈپو لکھنو,ص47
9۔ ڈاکٹر وحید اختر ،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجم ترقی اردو ہند علی گڈھ ص311
10۔ جمیل جالبی،تاریخ ادب اردو ۔جلد دوم ،ص 45
11۔ ڈاکٹر وحید اختر،خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،انجمن ترقی اردو ہند علی گڈھ ص 131


Sunday, 13 August 2017

گیتانجلی کے دیس میں






گیتانجلی کے دیس میں


امتیاز رومی 

9810945177

imteyazrumi@gmail.com



قدیم ہندوستانی اساطیر اور دیومالائی عناصر کا حامل کولکاتا ہندوستان کا تہذیبی و ثقافتی مرکزہے۔ ہگلی ندی کے مشرقی کنارے پر آباد یہ خوشیوں اور محلوں کا شہر فیضان گنگا سے شرف یاب ہے۔ گنگا کے پاون پوتر جل سے یہ شہر سیراب اور تہذیب گنگ وجمن سے فیضیاب ہے۔ یہاں کی فضا میں قاضی نذرالاسلام کی نظموں کی نغمگی اورگداز ہے ، رابندر ناتھ ٹیگور کے گیتوں کا سوزو ساز ہے اور یہی اس سرزمین کی روحانیت کا راز ہے۔ٹیگور کے جسم کی ریاضتیں اور روح کی عبادتیں الفاظ کا جامہ زیب تن کرکے ’گیتانجلی ‘ کا روپ دھارن کرگئی۔ قاضی صاحب کی ریزہ خیالی نظموں میں سماگئی۔اس شہر کی آب و ہوا کو پاکیزگی بخشنے اور یہاں کے باشندوں کا پاپ دھلنے کے لیے گنگا نے خود اپنا دھارا ادھر موڑ دیا۔ ہندو دیومالا کے مطابق یہ مقدس شہر ’ستی ‘ کے فیضان روح سے بھی لبریز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’ستی‘ کی وفات کے بعد وشنو جی نے اپنا کڑا جب ’ستی ‘ کی لاش پر مارا تو وہ اکیاون ٹکڑوں میں بٹ کر مختلف خطۂ زمین پر بکھر گئی اور جہاں جہاں اس کے ٹکڑے گرے وہ زمین مقدس بن گئی ۔ گویا وہ زمین ستی کے فیضان روح سے لبریز ہوگئی۔ ان میں کولکاتا بھی شامل ہے۔

کلکتہ جو 2001میں کولکاتا  سے تبدیل ہوگیا۔ اس کی وجہ تسمیہ اور ماخذ کے تعلق سے مختلف روایتیں ہیں۔مثلا کالی کوتا، کالی کھیتا اور کالک شیترا وغیرہ   جو بن بگڑ کر کلکتہ بنا اور پھر کولکاتا ہوگیا۔ مشہور اور مستند روایت کے مطابق یہ شہر کالی دیوی سے موسوم ہے۔مسٹر اے کے رائے کے حوالے سے مولوی بدرالزماں اپنی کتاب تاریخ کلکتہ میں لکھتے ہیں:’’خطہ کلکتہ باشندوں کے بود وباش کے قابل بارہ صدی عیسوی کے پیشتر ضرور ہوچکا تھا۔ آباد ہونے کے ساتھ ہی وہ نامزد بھی ہوا۔ خطہ مذکور کا نام کالی کھیترا ہی تھا۔ جس کی وجہ تسمیہ کالی ہی کا نام ہے‘‘۔ ( ص 67)

ہندوستانی تاریخ میں کولکاتا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں سے انگریزوں نے تجارت ، سیاست اور پھر حکومت کا آغاز کیا۔ سترہویں صدی کاتین گاؤں جو مغل جاگیرداری میں نواب بنگال کے ماتحت تھا، ترقی کرکے عظیم الشان شہر بن گیا۔ 1690ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجارتی پروانہ دیا گیا اس کے بعد یہ علاقہ تیزی سے ترقی کرنے لگا۔1756ء میں نواب سراج الدولہ نے اس پر اپنا قبضہ جمالیا مگر اسی سال کمپنی نے اسے واپس بھی لے لیا۔ پھر انگریزوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد کولکاتاکو دارلحکومت بنادیاجو 1911ء تک قائم رہا۔ اس درمیان کولکاتا کو تجارتی اور اقتصادی مرکزیت حاصل رہی۔ انیسویں صدی کے نصف اور بیسویں صدی کے اوائل میں بنگال کی نشاۃ ثانیہ ہوئی۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور اردو کو لسانی اعتبار حاصل ہوا۔

کولکاتا ہندوستان کا پہلا شہر ہے جہاں 1902ء سے اب تک ٹرام چل رہی ہے۔ہندوستان کا پہلا اخبار یہیں سے جاری ہوا۔نیز کولکاتا نے تحریک آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ مذہب، رنگ و نسل اور زبان و تہذیب کے لحاظ سے یہاں بوقلمونی پائی جاتی ہے۔ ڈراما، آرٹ، فلم، تھیٹر اور ادب میں کولکاتا کی اپنی مستحکم روایت ہے۔ اس شہر نے اپنے سایے میں سب کو شرن دیا ۔ کیا امیر، کیا غریب، کیا افسر، کیا ان پڑھ اور کیا مزدور سبھی یہاں مزے سے جیتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں میں جذبہ اخوت و مودت ، اپنی زبان و تہذیب سے بے انتہا محبت اور اپنے کام کے تئیں اتساہ پایا جاتا ہے جو انھیں ہرنئی صبح توانائی بخشتا ہے۔گلیوں اور سڑکوں پر عوام اور مزدوروں کا ہجوم اور ہاتھ سے کھینچنے والا رکشا مین کی جفا کشی ، اس شہر کی تعمیر و ترقی اور نقل وحمل میں معاون ہے۔جگہ جگہ سستے داموں میں کھانے پینے کی چیزیں جہاں غریب بھی شکم سیر ہوجاتے ہیں۔اسی خاک سے رابندرناتھ ٹیگور اور قاضی نذرالاسلام جیسے مفکر و فلسفی پیدا ہوئے۔ یہاں کے کل کل میں گیتانجلی کا رس اور قاضی صاحب کا سرتال بسا ہوا ہے۔اسی سرزمین سے کھودی رام بوس، نیتا جی سبھاش چندر بوس،اور مولانا ابولکلام آزاد وغیرہ نے آزادی کا نعرہ بلند کیااور سی وی رمن، رابندر ناتھ ٹیگور،مدر ٹریسااورامریتا سین نے نوبل انعام پاکر ہندوستان کا نام روشن کیا۔ مذکورہ علمی ، ادبی اور سماجی ہستیوں کی بدولت یہاں کے لوگوں کا شعور بالیدہ ہوا اور ان میں علم پروری، حب الوطنی، انسان دوستی اور ادب نوازی کا رجحان پروان چڑھا۔ 

تاریخ وتہذیب کے اس مرکز میں اردو کے ’انیس ‘نے باغ ’نعیم‘ آراستہ کیاجس کو مقامی اور بیرونی ادیب ودانشور کی شرکت نے گل گلزار بنا دیا۔راقم کو بھی اس محفل ادب سے خوشہ چینی کا شرف حاصل ہواجو ڈاکٹر نعیم انیس کی تگ ودو سے مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے مولانا ابوالکلام آزاد آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔یہاں سیمینار کا ماحول بھی خوب تھا ۔ طلبا وطالبات کے علاوہ نوجوان اور بزرگ ادیب و شاعر نہ صرف موجود تھے بلکہ اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتے تھے۔ادب دوست، با ذوق اور خوش مزاج سامعین ’واہ واہ بہت خوب ‘کے ذریعے داد وتحسین سے بھی نوازتے اور مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے۔ خطبہ صدارت بغور سماعت کرتے۔درمیان میں ایک دوسرے پر چوٹیں بھی کی جاتی اور کوئی جملہ کس دیا جاتا جس سے ماحول لالہ زار ہوجاتا۔ دودن کا یہ خوبصورت اجتماع نہایت کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچا۔یہ دوروزہ قومی سیمینار ڈاکٹر نعیم انیس کی انتھک محنت اور مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی معاونت کا ثمرہ ہے۔ اس پروگرام کے آغاز سے انجام تک کا سفر طے کرانے میں ڈاکٹر نعیم انیس نے جتنی تگ و دو کی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ان کی جد وجہد اور محبت نے اردو کے نامور تخلیق کاروں اور نوجوان قلم کاروں کو یکجا کیا۔جن میں حسین الحق، سید محمد اشرف ،نم ریاض اور ڈاکٹر کاظم خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
کولکاتا کے ادبی افق پر اردو کے بے شمار درخشاں ستارے ہیں جن کی تابندگی کاروان ادب کو نشان منزل بتارہے ہیں۔انیس رفیع، عاصم شہنواز شبلی، ف س اعجاز، نعیم انیس، دبیر احمد،ابوذر ہاشمی، جاوید نہال حشمی،نوشاد مومن،احمد کمال حشمی،شبیر احمد،اصغر شمیم، شاہد اقبال و غیرہ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے بزرگ اور نوجوان ادیب وشاعر اور صحافی ہیں جن تک راقم کی رسائی نہیں، یہ تمام نئے پرانے چراغ اپنا خون جگر جلا کر بزم اردو کو جگمگا رہے ہیں۔اس سلسلے میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کی خدمات بھی قابل ستائش ہے جو بنگال اور بالخصوص کولکاتا میں اردو زبان وادب کے فروغ اور اس کی ترویج واشاعت میں کوشاں ہے۔اس اکیڈمی کے تمام ارکان اور ممبران قابل مبارکباد ہیں۔



کیا جانے کہ ہوگی سیر میں سیر


ادبی محفل کے اختتام کے بعد تاریخی اور تفریحی مقامات کی سیربھی کافی دل چسپ رہی۔دیرینہ رفیق مولانا ابرار عالم مصباحی کی رفاقت، ضیافت اور معیت دوبارہ جانے کی خواہش دل میں بار بار پیدا کر رہی ہے۔ کولکاتا کے معروف اور کثیر مسلم آبادی والا علاقہ خضرپور میں ان کی رہائش اور مشہور اصلاحی و فلاحی تنظیم ’’دعوت قرآں‘‘ سے ان کی وابستگی ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصددعوت قرآن کو عام کرنا اور معاشرے میں امن و آشتی، انسان دوستی اور جذبہ خیر سگالی کو فروغ دینا ہے۔ کالج میں زیر تعلیم طلبا کی تربیت اور ان میں تفہیم قرآن کی صلاحیت پیدا کرکے دینی و عصری علوم کے مابین خلا کو پر کرنا اس کا مشن ہے۔ گویا ایک ہاتھ میں سائنس ہو تو دوسرے میں قرآن بھی ہو تاکہ افراط و تفریط سے نکل کر خوب صورت معاشرہ کی تشکیل ممکن ہوسکے۔ اس کے لیے کتابوں کی اشاعت و تقسیم، سمر کلاسیز کا اہتمام، کیریئر کاؤنسلنگ اور پیس اینڈ ہیومنیٹی ڈے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف غریب و نادار طلبا/ افراد کی کفالت، بیماروں کی عیادت اور علاج معالجہ اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ کل ملاکر ’دعوت قرآن‘ بے حد فعال تنظیم ہے ۔ میرا خیال ہے ملک بھر میں ایسی تنظیموکی کثرت ہونی چاہیے جو خلوص اور نیک نیتی سے قرآنی تعلیمات کو عام کرے ۔

خیر! ان کے ساتھ کولکاتا کی شان وکٹوریہ میموریل کی سیر پر ہم نکلے ۔وسیع و عریض رقبے کے درمیان میں سنگ مرمر کی عالیشان عمارت ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کی گئی ہے جو میوزیم کی شکل میں آج بھی سیاحوں کو ملکہ کی یاد دلاتی ہے۔ اس میوزیم میں ملکہ وکٹوریہ اور انگریز حکمراں سے متعلق یادگار کے علاوہ فارسی اور اردو کے بہت سے مخطوطے بھی نمائش کے لیے موجود ہیں۔ سنگ مرمر کی یہ خوب صورت اور عالیشان عمارت زائرین کو دعوت نظارہ دے رہی ہے ساتھ ہی ساتھ عبرت آموز بھی ہے کہ اپنے وقت کا کتنا بھی بڑا شہنشاہ ہو ’اس سرا میں نہیں قیام بہت‘۔ میوزیم کے اندر دیواروں پر ملکہ وکٹوریہ کا فرمان انگریزی اور اردو میں کندہ ہے جس میں لکھا ہے کہ کسی بھی بنیاد پر تعصب اور حق تلفی روا نہیں نیز جو جس کام اور عہدہ کا اہل ہو اسی کو وہ ملنا چاہیے ۔ ایک بہتر معاشرہ کی تشکیل کے لیے اس فرمان کی کتنی اہمیت ہے سبھی جانتے ہیں۔ 

یہاں سے ہم چڑیا خانہ گئے۔ چڑیا خانہ بھی خوب قید خانہ ہے جہاں رنگ برنگے چرند و پرند قید و بند کی زندگی گزار کر انسانوں کو تفریح طبع فراہم کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں پائے جانے والے پرندے اور جانور یہاں موجود ہیں جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے ڈار سے بچھڑ گئے ہیں۔بڑے بڑے مگر مچھ، شیر اور دیگر جنگلی جانور یہاں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔’تفریح کے ساماں ہوں میسر توسزا کیا‘ان درندوں کو انسانوں کے بیچ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی درندگی والی صفت انسانوں میں در آئی ۔ اب جانورں سے ڈر نہیں لگتا بلکہ انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔ ان کے اندر چھپی درندگی سے ڈر لگتا ہے۔ نہ جانے کب اس کے دانت اور پنجے نکل آئے اور انسان اور انسانیت کا خون پی جائے۔ جانوروں اور انسانوں میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ جانور محض انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاہم انسان ، انسان کے ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی زک پہنچا سکتا ہے۔ 

پھر ہم علی پور میں واقع نیشنل لائبریری بھی گئے تاہم وقت کی کمی کے باعث ایک دروازہ سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل گئے۔ حکومت ہند کے وزارت تہذیب و ثقافت اور سیاحت کے زیر انتظام تیس ایکڑ کو محیط یہ ہندوستان کی سب سے بڑی لائبریری ہے۔ یہاں مختلف موضوعات پر 2.2 ملین کتابیں موجود ہیں مگر افسوس کہ استفادے سے ہم محروم رہے شاید یہ محرومی اور تشنگی پھر اس دیس میں لے جائے ۔۔۔ بہر حال اس علمی وا دبی سفر میں سیر و سیاحت کا بھی لطف خوب آیا۔ 
اس انجمن میں اب تو جانا ہے بار بار 
دیوار و در کو غور سے پہچان لیا ہے




وکٹوریہ میموریل کولکاتا


غزل   کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں   کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں   وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہے اور مائل بہ کرم...