Search This Blog

Thursday, 2 May 2019

اکیسویں صدی میں تصوف


اکیسویں صدی میں تصوف
عالمی بحران کے حل کی تلاش:ایک مطالعہ
امتیاز رومی



اکیسویں صدی نے جہاں اپنے دامن میں آسمان کی بلندی کو قیداور زمین کے دفینوں کو دریافت کر لیا ہے اور چاند و سورج اور فضاؤں کو مسخر کر لیا ہے، وہیں سیاسی ا ور سماجی اعتبار سے نفرت و بغاوت، قتل و غارت،دہشت و وحشت اور ظلم وبربریت کو بڑھاوا دیا ہے۔دنیاکی برق رفتا ری ، خود نمائی اور خود غرضی نے انسانی رشتوں کوپا مال کر کے مادیت سے جوڑ دیا ہے۔ بجلی کی چمک نے دل کے نہا خانوں کو مزید تیرہ و تاریک کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں تصوف کی ضرورت و اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور صوفیا پر یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وہ اس بحران سے نجات دلا کر دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنائیں۔اسی سلسلتہ الذہب کی انمول کڑی زیر تبصرہ کتاب ہے۔
"اکیسویں صدی میں تصوف:عالمی بحران کے حل کی تلاش "تصوف کے حوالے سے ایک دستاویزی حیثیت کی حامل کتاب ہے۔جس میں ملک اور بیرون ملک کے علما،صوفیا،دانشور اور مفکرین کے سات درجن مقالات شامل ہیں۔اس کتاب میں تصوف کے تمام مسائل و مباحث کو اکیسویں صدی کے تناظر میں بیان کرنے کی کو شش کی گئی ہے۔ا س کے مشمولات گیارہ حصوں میں منقسم ہیں۔جن میں سے ہر ایک کا اجمالی تعارف درج ذیل ہے۔
آغاز باب سے پہلے ”حرف شرف“کے عنوان سے سید محمد اشرف کچھوچھوی (بانی وصدا ٓل اندڈیا علماو مشائخ بورڈ )  اس کتاب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں: "میں یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہو ں کہ اپنے موضوع پر یہ پہلی دستاویزی پیش کش ہے۔یہ نہ صرف ایک سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے بلکہ موجودہ عالمی بحران کے 
حل کا متصوفانہ منشور بھی ہے۔ایسا منشور،جس کی روشنی میں عالم اسلام کے اخلاقی،سیاسی و سماجی اور تعلیمی و تمدنی بحران کا عمیق تجزیہ اور اسلام کے مستقبل کا لائحہ عمل تیا ر کیا جا سکتا ہے۔"
اس سیمینا ر کے روح رواں اور سرخیل کارواں خوشتر نورانی نے "اظہاریہ "کے ذیل میں صوفیہ کی تعریف پیش کرتے ہوئے انہیں اخوان الرسول کا نام دیا،جو اخلاق محمدی اور بصیرت پیغمبری  کے حامل،صحیح معنوں میں دین حق کے عامل اور اس کے مبلغ ہیں۔نیز ہندوستان کے مشہور سلاسل کا تذکرہ کرتے ہوئے سید محمد اشرف کچھوچھوی کی خدمات اور آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے اغراض و مقاصدکو واضح کیا۔ یہ کتاب خوشتر نورانی اور ان کے رفقا کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔
1۔نور تصوف  (تصوف اہمیت،معنویت اور ضرورت ) اس باب میں پروفیسر مسعود انور علوی، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر سید سجاد حسین، پروفیسر قمرالہدی فریدی، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر سید وحید اشرف اور پروفیسر شاہ حسین احمد کے وقیع مقالات شامل ہیں۔ جن میں موجودہ دور  میں تصوف،  خانقاہوں کی ضرورت اورتعلیمات صوفیہ کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور تصوف کی حقیقت کو آشکار کیا گیا ہے۔'تصوف:دینی حقیقت اور سماجی ضرورت' میں پروفیسر شاہ حسین رقم طراز ہیں:"صوفیہ ہمیشہ انسانی برادری کی وحدت کے قائل رہے ہیں اسی لیے ان بزر گوں کی تعلیمات میں صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ غیر مسلموں سے بہتر تعلقات کا درس ملتا ہے۔"لیکن صد حیف کہ مادیت پرستی نے غیرسے تو در کناراپنوں سے بھی بیگانہ کر دیا۔
2۔اسبا ب تشدد( شدت پسندی اور دہشت گردی:تاریخ،احوال اور اسباب) موجودہ دور میں دہشت گردتنظیمیں اور شدت پسند عناصر عالم رنگ و بو کو اجاڑنے اور چین و سکون غارت کرنے کی تگ و دو میں ہمہ تن مصروف ہیں۔عدم تحفظ کا احساس انسانی رگ و پے میں جاگزیں ہے۔ دہشت گردی آج عالمی مسئلہ ہے اور پوری دنیا اس سے نبرد آزما ہے۔اس باب میں ان ہی اسباب و علل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے ذیل میں ڈاکٹر علیم اشرف جائسی،پروفیسرسید طلحہ رضوی برق، احمد جاوید، پروفیسر فاروق احمد صدیقی، مولانا فروغ اعظمی، مولانا ضیاء الرحمن علیمی، مولانا اطہر اشرف جائسی، غلام رسول دہلوی اور مولانامحمود غازی ازہری کے فکر انگیز مقالات ہیں جن میں دہشت گردی کی فکری،سیاسی،سماجی اور اقتصادی بنیادیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر علیم اشرف جائسی نے اسلام کے حوالے سے دہشت گردی کا جائزہ لیا ہے اور اسے دو خانوں میں تقسیم کیا ہے۔اول مکانی محور جس کا مرکزخطہ نجد ہے۔ دوم فکری محور جس کی نمائندگی چند نام نہاد مسلم فرقہ پرست کر رہے ہیں۔ پروفیسر طلحہ رضوی برق نے دہشت گردی کی عالمی صور ت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے اسباب و علل پر بے لاگ تبصرہ کیا ہے۔ احمد جاوید نے تصوف اور تعلیمات صوفیہ کی روشنی میں دہشت گردی کے عالمی بحران کا تفصیلی جائزہ لیتے ہو ئے اس نازک ترین دور کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
"آج دنیا ہمیشہ سے زیادہ بے چین،بے امن اور بے سکون ہے۔مشرق بعید کی کسی دور افتادہ بستی میں ایک غریب کی جھونپڑی سے امریکا کے وہائٹ ہاؤس تک آج کون ہے جس کو عدم تحفظ کا احساس چین کی نیند سونے دیتا ہے؟"
3۔علاج تشدد(شدت پسندی اور دہشت گردی کا علاج اور حل:صوفی تناظر میں) مذکورہ باب کے تحت مفتی ضیاء الدین نقش بندی، ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی، مولانا حسن سعید صفوی، مولانا محمد علی قاضی مصباحی، مفتی مطیع الرحمن اشرفی، مو لانا شہباز عالم مصباحی، مولانا محمد اکرم رضا اور زہرہ فاطمہ کے مقالا ت شامل اشاعت ہیں۔جن میں تعلیمات صوفیہ کی روشنی میں انسداد دہشت گردی کا نظریہ پیش کیا گیا ہے۔چوں کہ تصوف اور دہشت گردی پانی اور آگ کی طرح ہے اس لیے یہ دونوں کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔اگر دہشت گردی کے آتش کدہ کو گلزار بنانا ہے تو آب تصوف کو کام میں لانا ہوگا۔ 
مفتی ضیاء الدین نقش بندی کا مقالہ "تصوف اور انسداد دہشت گردی"تاریخی اور تحقیقی نوعیت کاہے۔اس میں انہوں نے دہشت گردی سے انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات کا بخوبی جائزہ پیش کیاہے،جہاد اور دہشت کے مابین فرق کو واضح کیا ہے اور انسداد دہشت گردی کاواحد حل تصوف کو قرار دیا ہے۔
4۔بحث و نظر(تصوف اور صوفیہ:مسائل و مباحث) اس باب میں صوفیہ اور مسائل تصوف پر بحث کی گئی ہے۔اس کے ذیل میں مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی، پروفیسر عبدالحمید اکبر، مولانا منظرالاسلام ازہری، ڈاکٹر سجاد عالم مصباحی اور پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی، ڈاکٹر آصف ملک، آصف اعظمی، مولانا امام الدین سعیدی، نورین علی حق اور مولانا آفتاب مصباحی کے مقالات شامل ہیں۔
یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ تصوف اور اہل تصوف کو جا بجا لعن طعن کیا گیا، سب و شتم کا نشانہ بنا یا گیا اوربڑے بڑے مشائخ کو مسئلہ تکفیر کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعہ یہ ہے کہ عالم وجد میں صوفیہ کی زبان سے کچھ ایسے کلمات نکلے جو بہ ظاہر علما کے نزدیک قابل گرفت ہوتے جن کی وجہ سے فو را ان پر فتوے صادر کیے گئے۔حالا ں کہ:
جو وجد کے عالم میں نکلے لب مومن سے
وہ بات حقیقت میں تقدیر الہی ہے
یہ بات ہر کس و ناکس کی سمجھ سے بالا تر ہے۔چناں چہ اس باب میں اسی پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے۔"شطحات صوفیہ کی تفہیم اور تکفیر مشائخ کا جائزہ" میں مفتی مطیع الرحمن مضطر نے عالم بے خودی میں صوفیا کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی تفہیم و تاویل پیش کی ہے اور تکفیر مشائخ سے باز رہنے کی تلقین بھی۔
پروفیسر عبدالحمید اکبر نے "رہبانیت اور تصوف میں تصور ترک دنیا"کی وضاحت کی اوراس کے تعلق سے پھیلی غلط فہمی کا ازالہ کیاہے۔ اور بطور دلیل خواجہ نظام الدین اولیا کا قول نقل کیا: "ترک دنیا کے یہ معنی نہیں کہ کوئی اپنے کو بر ہنہ کردے مثلا لنگوٹ باند کر بیٹھ جائے بلکہ ترک دنیا یہ ہے کہ لباس پہنے،کھانا کھائے اور جو میسر آئے اس کو استعمال کرے،لیکن اس کے جمع کرنے کی طرف متوجہ نہ ہو او ر اپنے دل کو کسی چیز میں پھنسائے نہیں یہی در اصل ترک دنیا ہے۔"
مولانا منظرالاسلام ازہری نے"امریکا میں تصوف کا تاریخی تسلسل" سپرد قرطاس کیا ہے اور تاریخی حوالوں سے امریکا میں تصوف اور صوفیا کی روایت و اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ان کے مطابق انیسویں صدی کے آغازسے ہی امریکا میں روحانیت اور تصوف کی روایت ملتی ہے اورتا ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔بلکہ متعدد یونیورسٹیز میں تصوف بطور سبجیکٹ پڑھایا جاتا ہے اور ریسرچ کا مو ضوع بھی بنا یا جاتاہے۔ 
5۔ بقائے باہم (قومی ہم آہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کی تشکیل و تعمیر میں صوفیہ کا کردار) اس باب میں پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر صاحب علی، ڈاکٹر شجاع الدین قادری، ڈاکٹر سید سراج اجملی، ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی، ڈاکٹر ظفر انصاری ظفر، ارشاد عالم نعمانی اور مولانا ساجد رضا مصباحی کے مقالات شامل ہیں۔ 
یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کی داغ بیل صوفیا نے ڈالی ہے۔ پروفیسر اخترالواسع کے مطابق پانچویں صدی ہجری سے ہی ہندوستان میں تصوف کے برگ و بار نظر آنے لگتے ہیں اور سب سے پہلے داتا گنج بخش ہجویری اس کی آبیاری کرتے ہیں۔صوفیا کی آمد نے ہندوستان میں باقاعدہ خانقاہی نظام کی بنیاد ڈالی،جن کی بارگاہ میں بلا تفریق مذہب و ملت اور مشرب و مسلک ہر کس و ناکس حاضری دیتا اور کسب فیض کرتاتھا۔انہوں نے انسان دوستی اور بقائے باہم کا پیغام دیاجس سے گنگا جمنی تہذیب کی داغ بیل پڑی۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ہندوستان میں بہ یک وقت دو نظام رائج تھے ایک سیاسی اور حکومتی،جس کی باگ ڈور بادشاہ،امراو نوابین اور راجاؤں کے ہاتھ میں تھی۔ دوسرا مذہبی اور صوفیانہ، جس کی قیادت علما صوفیہ اور سادھو سنت کر رہے تھے۔سیاسی نظام سے ضروریات زندگی پو ری ہو تی تھی اور صوفیانہ نظام سے روحانی غذافراہم ہو تی تھی۔یہ باب اسی شاندار ماضی کی بازیافت ہے۔
6۔تحمل و روا داری( تحمل و رواداری کے فروغ میں تصوف اور صوفیہ کا رول)یہ حصہ شاہ عمار احمد نیر میاں، پروفیسر شہپر رسول، شاہ ہلال احمد قادری، ڈاکٹر عبدالسلام جیلانی، ڈاکٹر مشتاق صدف اور مولانا یعقوب علی خاں کے مقالے پر مشتمل ہے۔
آج جب کہ ہر طرف عدم رواداری کا دور دورہ ہے۔تحمل و بردباری اور قوت برداشت کا یکسر خاتمہ ہو چکاہے۔ایسے نازک ماحول میں تصوف ہی امن عامہ کاضامن ہو سکتا ہے۔چوں کہ تصوف کی بنیاد صرف اور صرف عشق و محبت،رواداری اورقوت تحمل پر استوار ہے اس لیے تعلیمات تصوف کے بغیر'سب کا ساتھ سب کا وکاس'صدا بہ صحراہے اور اس کا نفاذناممکن۔پروفیسر شہپر رسول کے الفاظ میں "آج کے انسانی معاشرے کوجس انتشار کا سامنا ہے،وہ انتہائی اندوہ ناک اور ظلمت آفریں ہے۔ایسے میں اہل تصوف کے اپنائے ہوئے راستے پر چلنے،ان کی تعلیمات کو عام کرنے اور اپنی اصل کو پہچاننے کی سخت ضرورت ہے۔"
7۔ تعمیر ثقافت ( تصوف:معاشرہ،تہذیب اور ثقافت کا معمار) اس باب میں تصوف کو معمار تہذیب و ثقافت قرار دیا گیا ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ نے موجودہ سیاسی و تہذیبی تناظر میں علم تصوف کا جائزہ لیا ہے۔علوم وفنون کے اس عہد میں جتنی وحشیانہ حرکتیں ظہور پذیرہیں، انسان ریلیشن شپ کے نام پر جس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہے،  وہ ناقابل یقین وبیان ہے۔پروفیسر عتیق اللہ کے مطابق "بشریت کش اقدار اگر اسی طرح انسانی حرمت کو پامال کرتی رہیں گی تو وہ دن دور نہیں جب یہ دنیا ایک خوفناک خرابے میں بدل جائے۔صوفیہ کی تعلیمات اور ان کے طرز حیات ہی میں مجھے ایک فلاح کی راہ اور عافیت کی سبیل نظر آتی ہے۔"
پروفیسر اقتدار محمدخان کا مقالہ"جدید علوم کی اشاعت میں خانقاہوں کا حصہ"خانقاہوں کو عصری علوم سے جوڑتاہے۔نیز صابر رضا رہبر مصباحی نے "معاصر غذائی بحران اور خانقاہی روایات"کے حوالے سے قلت غذاکو عالمی اور اسلامی تناظر میں زیر بحث لایا ہے۔ مفتی آفتاب رشک مصباحی نے ’مسئلہ سماع کا علمی اور سماجی اعتبار سے مطالعہ پیش کیا ہے۔ان کے علاوہ مولانا فہیم احمد ثقلینی ازہری، مولانا منظر محسن، مولانا ابرار رضا مصباحی، مولاناغلام عبدالقادر حبیبی اور مولانا ظفرالدین برکاتی کے مقالات بھی اہم ہیں۔
8۔تعمیر اخلاق( تصوف اور تعمیر اخلاق و کردار ) یہ باب پروفیسر علیم اشرف خان،مولانا سید رکن الدین اصدق،مولانا محمد عارف اللہ فیضی، مولانا سید سیف الدین اصدق اور طالب اکرام محمد کے مقا لات پر مشتمل ہے۔اس باب کے تمام مضامین تعمیر اخلاق پر مبنی ہیں۔ صوفیہ پوری زندگی اخلاق حسنہ پر عمل پیرا رہے اور دیگر لوگوں کو بھی اس پر گامزن ہونے کی تلقین کرتے رہے۔
9۔تجدید و احیا ( احیائے تصوف:تجاویز و تدابیر) انسانی معاشرہ جس قدر نا ہموار اور عدم توازن کا شکار ہو گا تصوف کی ضرورت و اہمیت اور بڑھتی جائے گی۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علم کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا یا جائے۔اس باب میں ان ہی ذرائع ترسیل و ابلاغ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
 پروفیسر خواجہ اکرام نے تعلیمات تصوف کو عصری دانش گاہوں میں عام کرنے پر زور دیا۔ چوں کہ عصری دانش گاہیں ملک کی سماجی، سیاسی،معاشی اور ثقافتی زندگی کو متاثر کرتی ہیں اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔لہذا انہیں کم از کم تصوف سے آشنا ضرور ہو نا چاہیے۔تاکہ ایک بہتر سماج کی تشکیل ہو سکے۔ چناں چہ وہ اپنے مقالہ"یونیور سیٹیز میں تصوف کی تعلیم و تدریس:ایک جائزہ" میں تصوف کو بطور مضمون شامل کرنے کی وجہ بتاتے ہو ئے رقم طراز ہیں: "ہندوستان کی تعمیر و تشکیل میں صوفیہ کا اہم کردار رہا ہے۔ہندوستان کی تاریخ لکھنے والے مورخوں نے اور ماہر سماجیات نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ قدیم ہندوستان میں سماجی روابط بحال کرنے،لوگو ں کے اند ر جذبہ اخلاص و ہم دردی پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے نہ صرف کام آنے،بلکہ ساتھ رہتے ہوئے بھائی چارہ کو بڑھاوا دینے کی تعلیم صوفیہ ہی کے ذریعہ رائج ہوئی،بلکہ عملی طور پر نافذ کرنے میں بھی صوفیہ ہی پیش پیش رہے...صوفیہ کے ان کٹیوں سے جو پیغام ہندوستان کی سرزمین میں پہنچا وہ ایک ایسا پیغام تھا جس نے ایک انقلاب پیدا کیا۔"
ان کے علاوہ ذیشان مصباحی،پروفیسر عبد الستار،مفتی انفاس الحسن چشتی،ڈاکٹر افضل مصباحی، ڈاکٹر اخلاق احمد آہن،مولانا محمد انوار احمد قادری، مولانا ملک الظفر سہسرامی، مولانا مقبول احمد مصباحی، مولانا صادق رضا مصباحی، مولانا مجیب الرحمن علیمی اور مولانا جاوید عنبر مصباحی کے مقالات سے احیائے تصوف کی نئی راہیں اور مختلف تجاویزو تدابیر سامنے آتی ہیں۔
10۔اتحاد امت  ( تصوف:اتحاد امت اور تعمیر ملت کا عنوان جلی) اتحاد ملت بیضا یقینا نوائے وقت ہے۔اگر آج اسے یکسر نظر انداز کر دیا گیاتوآنے والاکل بہت ہی پر خطر ہو گا۔مذکورہ باب میں ان ہی مسائل پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔پروفیسر سید حسین الحق نے "ملی مسائل کا حل صوفی نقطۂ نظر سے"پیش کیا اور تعمیر ملت کا واحد ذریعہ اتحاد امت کو قرار دیا اور اس کے لیے صوفیانہ طرز زندگی کو اپنا نے کا درس دیا۔چناں چہ حسین الحق لکھتے ہیں:"مذہبی شدت پسندی نے عوامی سطح پر،صحافتی سطح پر اور زبان کی سطح پر بہت سفاک اندازمیں "کارہائے نمایا ں"انجام دیے ہیں اور جلد ہی "دہشت پسندی و شدت پسندی"کے ان "کامیاب مظاہروں"کا سد باب نہیں کیا گیا تو خطرہ ہے کہ ہندوستان کی عوامی زندگی ایک ایسے خلفشار سے دو چار ہو جا ئے گی،جس میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہو گا"۔ ان کے علاو ہ مولانا غلام مصطفی ازہری،مولانا ناصر رام پوری اور مولانامحمد رضوان قادری کے مقالات اتحاد امت اور تعمیر ملت کے مختلف جہات و نکا ت پر روشنی ڈالتے ہیں۔
11۔تصوف اور ادب  (تصوف اور فروغ زبان و ادب )  اردو زبان و ادب کی نشو ونما اور فروغ میں صوفیہ کی خدمات سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چناں چہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اردو زبان کوعہد طفلی میں اگر صوفیا  کا سہارا نہ ملا ہوتا تو شاید ا س کی ترقی میں پچاس سال کی تاخیر ہو جاتی۔یہ اور بات ہے کہ صوفیا  کا مشن زبان و ادب کا فروغ نہیں تھا بلکہ دعوت و تبلیغ تھا۔ تاہم جس زبان کو انہوں نے وسیلہ اظہار بنایا اس نے بے انتہا فیض پایا۔
اردو زبان و ادب کو سیاسی اور معاشی سطح پر جتنا مشق ستم بنا یا گیا،اس کی جگہ کوئی اور زبان ہو تی تو شاید دم توڑ دیتی۔لیکن اردو ہے کہ اس کا دائرہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔میرے خیال میں اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ اس کے خمیر میں صوفیا کا پیار،ان کا حسن اخلاق اور ان کی ریاضت شامل ہے، جس سے اردو زبان کو توانائی ملتی ہے۔
اس باب میں ڈاکٹر صفدر امام قادری، ڈاکٹر محمد کاظم، ڈاکٹر علیم صبا نویدی، ڈاکٹر عمیر منظر اور سید تالیف حیدر نے صوفیا کی ادبی و لسانی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ڈاکٹر صفدر امام قادری "صوفیہ اور بھکتی تحریک کے ادبی اثرات:ایک کثیر لسانی مطالعہ"میں لکھتے ہیں: "جنوب ایشیائی سماج کی لسانی اور مذہبی تکثیریت کی بنیادوں میں صوفی اور بھکت شعراکا لہو سمایا ہو ا ہے۔اس تکثیریت کا محققانہ جائزہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔"
  دستاویزی حیثیت کی حامل اس کتاب کے جملہ مقالات سادگی زبان،حسن بیان اور شیرینی و لطافت سے پر ہیں۔نیز اتنی بوقلمونی شاید ہی کہیں یکجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔غرض کہ یہ کتاب ایک خوب صورت ملک اور سماج کی تشکیل کا حسین خواب اپنی آنکھوں میں سجائی ہوئی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کا نصب العین بنایا جائے تاکہ یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔

Tuesday, 5 March 2019

چلو اک جنگ ایسی ہو کہ بیڑا پار ہوجائے


چلو اک جنگ ایسی ہو کہ بیڑا پار ہوجائے
امتیاز رومی
جواہرلال نہرویونیورسٹی، نئی دہلی
imteyazrumi@gmail.com

جنگ مطلب لہولہان، خون خرابہ ، قتل و غارت اور تباہی و بربادی کا منظرنامہ۔ جنگ ابتدا ہی سے لڑی جارہی ہے اور انتہا تک لڑی جاتی رہے گی۔ جب تک یہ جہان ہے اور اس پر حضرت انسان ، جنگ و جدال اور قتل و قتال کا سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ ابتدائے افرینش میں قابل نے اپنے مفاد کے لیے سب پہلے انسان کا خون کیا۔ یہ جنگ تو نہیں تھی البتہ انسانی خون کا پہلا قطرہ تھا جو زمین پر گرا۔ تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی جانب سے جتنی بھی جنگیں ہوئیں وہ حق و باطل کی جنگیں تھیں اسی لیے جہاد کاحکم بھی نازل ہوا۔ یعنی جب باطل قوتوں نے اہل حق کو نیست و نابود کرنے کی سازش کی اوران کے لیے زمین تنگ کردی تب مجبور ہوکر مسلمانوں نے اپنی دفاع کے لیے میدان جنگ کا رخ کیا۔ مگر آج اسلام اور جہاد کے نام پر جتنی بھی تنظیمیں قتل و غارت اور فتنہ و فساد برپا کر رہی ہیں وہ دراصل لشکر شیاطین ہیں۔اسلام سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور جہاد کے نام پر فساد فی الارض کررہے ہیں۔
قدیم زمانے میں لاٹھیوں بھالوں، تیروں اور تلوارں کے ذریعے جنگیں ہوتی تھیں۔ اب زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ گولی ، بم، بارود، اور ایٹم بم جیسے خطرناک اور مہلک ہتھیار انسانوں نے بنالیے۔ جن سے ایک ہی لمحے میں پورے ملک کو ملبے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جنگوں کا یہ کھیل صدیوں سے جاری ہے۔ جس میں بے شمار لوگوں کے جان و مال تباہ ہوجاتے ہیں لیکن اس تباہی کے ملبے پر ایک آدمی اپنی کرسی لگائے اور تخت و تاج سجائے مسکراتا رہتا ہے۔ جوانسانی شکل میں حرص اورہوس کا پجاری ہوتا ہے۔ دراصل کسی بھی جنگ میں دونوں فریق کے سپاہی اوربے گناہ عوام ہی مارے جاتے ہیں۔ انسانیت کی شکست ہوجاتی ہے اور جیت صرف چند مفاد پرستوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے سامنے عبرت کے لیے دنیا کی بڑی بڑی جنگیں ہیں جن میں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی شامل ہیں۔ پہلی جنگ عظیم اس معنی میں اہم ہے کہ پہلی بار اس میں جدید ٹیکنا لوجی سے لیس اسلحوں اور زہریلی گیسوں کا استعمال ہوا۔ جس کے نتیجے میں تقریبا دو کروڑ لوگ جاں بحق ہوگئے اور زندہ بچ جانے والے بھی بیماری اور تنگدستی کے شکار ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم میں تقریبا چالیس ممالک کے کروڑوں لوگ ہلاک اور متاثر ہوئے۔ حالیہ جنگوں میں عراق، افغانستان، لیبیا، شام اور فلسطین کا جو انجام ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ 
زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ جنگ کی نوعیتیں اور حقیقتیں بھی بدلتی گئیں۔آپسی جنگ، خانگی جنگ ،ملکی جنگ اور عالمی جنگ۔ ان کے علاوہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس عہد میں ڈیجیٹل جنگ، سائبر جنگ، میڈیا جنگ اور نفسیاتی جنگ بھی جاری ہے۔ جنگوں کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ کے ان محاذوں کے خلاف ایک اور محاذ کھولا جائے۔ اگر ہماری جنگی توانائی اس جانب متوجہ ہوگئی اور صحیح معنوں میں مسائل کے خاتمے کے لیے جنگ لڑی گئی تو ان کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ 
تجارت و حکومت کے اس عہد میں جنگ بھی ایک تجارت اور وجہ حکومت بن چکی ہے۔ دو فریق کے لڑنے سے تیسرے فریق کا فائدہ ہونا بھی ایک لازمی امرہے ۔ اگر جنگ بند ہوجائے تو اسلحوں کی تجارت کرنے والے افراد اور ممالک فاقہ کشی میں مبتلا ہوجائیں گے ۔ اس لیے جنگ کرانے والوں کی بھی ایک مضبوط یونین ہے۔ اس کے پیچھے ایک پوری ذہنیت ہے جو مسلسل کام کر رہی ہے۔ انسان بھی کتنا عجیب ہے۔ اس نے خود اپنے لیے پہلے سرحدوں کی دیواریں بنائیں ۔مذہب و مسلک اور ملک و ملت کی تفریق قائم کی اور خود ہی اس کے لیے تلواریں تک نکال لی اور اس کی حفاظت کے لیے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو لگا دیا۔پہلے تو خود ہی سرحدوں میں تقسیم ہوگئے۔ پھر سرحد کے دونوں پار لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر کھڑا کردیا کہ اس پار کے لوگوں کو بچانے کے لیے اس پار کے لوگوں کومارگرانا ہے۔ اسلحوں کی تجارت کے لیے دو لوگوں اور ملکوں میں جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔ اپنے سر ملک و ملت کا تخت و تاج سجانا ہے اور اس کے لیے ہزاروں لوگوں کی بلی چڑھانا ہے۔انسان نے انسانوں کو گوروں کالوں کے درمیان ، اونچ نیچ کے درمیان ،طاقتور اور کمزور اور امیر وغریب کے درمیان تقسیم کرکے ایک دیوار حائل کی اور پھر اپنی مرادیں پوری کرنے کے لیے جنگوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا۔ 
جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے اس سے مسائل کیا حل ہوں گے۔ تاہم ہے اگر اس کا رخ موڑ دیا جائے ان مسائل کی طرف جن سے ہم نبرد آزما ہیں اور واقعی ان کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ممکن ہے ان کے حل نکل آئیں۔ پرامن مذاکرہ اور بات چیت سے کسی نتیجے اور حل کی طرف بڑھاجاسکتا ہے۔ مگر جنگ نے سب کچھ ختم کردیا ہے۔ انسانوں کی اس بھیڑ میں انسانیت دور بہت دور گم ہوچکی ہے۔ چناں چہ اک جنگ ایسی ہوکہ آرپار ہوجائے اور انسانوں کا کلیان ہوجائے ۔ اس کے دو راستے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا میں جتنے ممالک ہیں وہ سب نیوکلیر بم بنا کر دن تاریخ اور وقت متعین کرکے ایک ساتھ نیوکلیر بم کا بٹن دبادے تاکہ دنیا کا ایک ایک فرد بلکہ پوری کائنات ایک ساتھ فنا ہوجائے اور خدا کی بارگاہ میں  پہنچ جائے۔ کم سے کم روز روز کے ہنگاموں سے تو چھٹکارا مل ہی جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان جنگوں کے رخ انسانی خون خرابے  کے بجائے ان برائیوں کی طرف موڑ دیے جائیں جن کے سبب یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
لہٰذا آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے جنگ کا اعلان کریں جس سے ہر برائی کا خاتمہ ہوجائے اور نفرتوں کی کہانی مٹ جائے۔ پوری شدت کے ساتھ نفرت و عداوت کے خلاف، بغض و حسد کے خلاف ، انسان اور انسانیت سوز عناصر کے خلاف ، اپنی انا اور ہوس کے خلاف اور عدم رواداری کے خلاف محاذ قائم کریں ، بد اخلاقی اور بدکرداری، ظلم وجبر اور استحصال کے خلاف جنگ کا اعلان کریں اور جب تک فتح و نصرت نہ ملے تب تک ہم میدان جنگ میں ڈٹے رہیں۔ امید ہی نہیں یقین کامل ہے کہ ہم فتح یاب ہوں گے ۔ پھر اسی دنیا میں ایک ایسا ملک، ماحول اور سماج جنم لے گاجہاں اخوت ومحبت، امن وآشتی اور صلح ومصالحت کا پہرہ ہوگا۔ ذہنی و فکری کدورتوں کا خاتمہ ہوگا اور ہر ایک فرد خواہ وہ کسی بھی مذہب و مسلک کا ہو دوسروں کے گلے کاٹنے کے بجائے ان کو گلے لگائے گا۔ جہاں ہرطرف خوش حالی اور امن وامان ہی ہوگا۔ چلو اک جنگ ایسی ہو کہ بیڑا پار ہوجائے۔ 

Tuesday, 26 February 2019

کیڑوں کی صنعت'ریشم سازی'




امتیاز رومی 
جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
9810945177


'کیڑوں کی صنعت'ریشم سازی





کیا آپ جانتے ہیں ! کیڑے انسانی زندگی ، اس کے رکھ رکھاؤ ، لائف اسٹائل اور بود وباش میں کتنے معاون ہوتے ہیں۔ کیڑے انسان کے لیے لذیذ غذائیں، دوائیں اور آرائش و زیبائش کے لیے وسائل فراہم کرتے ہیں۔انھیں میں ایک بے حد قدیم اور کار آمد کیڑا ’ریشم کا کیڑا‘ ہے۔ جس سے انتہائی خوب صورت ، نفیس اور نرم و نازک ریشہ نکلتا ہے اور اس سے لباس فاخرہ اور زرقد برق والا پوشاک تیار کیا جاتا ہے۔ ریشم کے حسن و جمال اور خوب صورتی کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر کے لوگوں نے اس جانب توجہ کی اور ریشم پیدا کرنے کے نت نئے سائنسی طریقوں اور مختلف قسموں کو دریافت کیا۔ ریشم کا کیڑا تتلی کی مانند ہوتا ہے جولیپی ڈاپ ٹیرا (Lepidoptera ) کے تحت آتا ہے ۔ اس کے دوخاندان اہم ہیں ایک بامبی سی ڈائی(Bombycidae ) اور دوسراسٹرنی ڈائی( Saturniidae ) ۔ یہ اپنی اہمیت و افادیت کی بنیاد پر ایک باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ جسے Sericulture کا نام دیا گیاہے۔ نیز اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے Queen of Textiles بھی کہا جاتا ہے۔ ان سے پیدا ہونے والے ریشم کو تجارتی نقطہ نظر سے چار اہم خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مال بیری(Mulberry)، ٹسار(Tasar)، اری (Eri)اور مونگا(Monga)۔ر یشم سازی کا شمار گھریلو صنعت میں ہوتا ہے جس کے ذریعے کم لاگت میں بہتر منافع حاصل کیا جاسکتا ہے اور معیشت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ حکومت ہند نے اس صنعت کے فروغ کے لیے سنٹرل سلک بورڈ کے علاوہ علاقائی سطح پر بہت سے مراکز قائم کر رکھے ہیں جہاں اس صنعت کے تعلق سے ضروری معلومات اور مالی امداد بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
ریشم کی دریافت کے سلسلے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق سب سے پہلے ہندوستان میں ہمالیہ کی ترائی میں اس کی دریافت ہوئی اور یہیں سے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ دوسری روایت کے مطابق تقریبا 2697 قبل مسیح ہی چین کی شہزادی سی لنگ چی (si ling chi) نے دریافت کیا۔ جوکیڑے کے اندر سے نہایت باریک ، نازک اور نفیس ریشے کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس کا کیڑا شہتوت کے پتوں پر پرورش پاتا ہے ، جس سے کوکون (Cocoon ) تیار ہوتا ہے اور اس سے ریشمی دھاگا بنتا ہے پھر اس سے کپڑا تیار ہوتا ہے۔ اس طرح کئی مراحل کے بعدایک نہایت ہی نرم و نازک ، نفیس، قیمتی اور زرق برق والا لباس تیار ہوتا ہے ۔ جسے راجا ، مہاراجا ، امرااور نواب زیب تن کرکے اپنی جاہ وحشمت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی بیگمات ریشمی لباس میں ملبوس ہوکر اپنے حسن وجمال میں چار چاند لگاتی ہیں ۔جب کہ عام آدمی کے بجٹ سے یہ آج بھی باہر ہے۔ ر یشم کی صنعت سے کیڑوں کی اہمیت و افادیت اور قدر وقیمت سمجھ میں آتی ہے۔ ڈاکٹر ایم ایم شیخ کے مطابق ریشم کو سب سے پہلے چین میں دریافت کیا گیا۔ ہزاروں سال پہلے ’ہوانگ تی‘ نامی بادشاہ کی ملکہ نے کم عمری میں ہی اس کیڑے کو دریافت کرلیا اور پھر اس سے کپڑے بنانے کا آغاز کردیا۔چوں کہ چین نے اس صنعت کوعرصہ دراز تک پوشیدہ رکھا تھا اس لیے 555ء میں دو راہبوں نے جاسوسی کے ذریعے اس کا علم حاصل کیا اور یورپ کو اس سے آشنا کرایا۔ پھر اہل یورپ نے ریشم سازی کا آغاز کردیا۔ 
ہندوستان میں ریشم کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔تاہم اس کی صنعت کے آغاز کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ البتہ اس صنعت پر پہلی بار پوسا انسٹی ٹیوٹ دہلی میں 1905ء سے 1918ء تک برطانوی ماہر حشرات الارض Lefroyکی نگرانی میں تحقیقی کام ہوتا رہا جسے ’سلک ہاؤس‘ کا نام دیا گیااور بعد میں یہ بھاگل پورمنتقل ہوگیا اور یہاں مسلسل اس پر تحقیقی کام ہوتا رہا۔ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ریشم کی کاشت کی جاتی ہے اور بے شمار لوگوں کاذریعہ معاش ریشم سازی ریشم سازی سے وابستہ ہے۔ 
ریشم سازی عام لوگوں کو بہتر روزگار مہیا کرنے والی صنعت ہے ۔اسے آغاز کرنے والوں کو حکومت کی طرف سے مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ ریشم کے کیڑوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ ان کی ہیئت ، رنگت اورخاصیت بھی جداجداہے۔ ریشم کے کیڑوں کو موسمی آب وہوا اور دھوپ و بارش سے بچانا ضروری ہے ۔ ریشم کا کیڑا چوں کہ شہتوت کے پتوں پر ہی زیادہ تر پرورش پاتا ہے اس لیے اس صنعت کا انحصار بھی شہتوت کی کاشت پر ہی ہے۔ اس کیڑے کی پیدائش، افزائش اور نشو و نماانتہائی نگہداشت کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ کھیتوں میں اس کے لیے مخصوص قسم کا گھر بنایا جاتا ہے اور اس میں کیڑوں کی پرورش اور غذا کے لیے ضروری اشیا بھی فراہم کرنے ہوتے ہیں۔ مختلف قسم کے آلات یعنی ڈبے، ٹرے ، اسفنج کی پیٹیاں، ٹوکریاں ، جالیاں، معتدل درجہ حرارت اور غذا تیار کرنے کی چیزیں وغیرہ ۔ اتنی محنت و مشقت کے بعد وہ کیڑا ریشم بنانے کے قابل ہوتا ہے۔پھر اس سے مختلف طریقوں سے ریشم حاصل کیا جاتا ہے۔ 

ریشم کی صنعت پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں دستیاب ہیں ۔ تاہم اردو میں کم یاب تو دور نایاب ہیں ۔راقم کی نظر میں ڈاکٹر ایم ایم شیخ (ماہرحشرات الارض) کی کتاب ’’ریشم سازی‘‘ اردو زبان میں ریشم سازی کے حوالے سے نہایت اہم اور معلوماتی ہے۔اس میں سادہ اور سلیس زبان میں شرح و بسط کے ساتھ ریشم سازی کے جملہ لوازمات اور ضروریات کو بیان کردیاگیا ہے۔ نیز اس مضمون میں بھی زیادہ تر اسی کتاب سے مدد لی گئی ہے۔ڈاکٹر ایم ایم شیخ کا تعلق بنیادی طورپر سائنس سے ہے اور ماہر حشرات ہیں تاہم انہیں اردو زبان و ادب ، صحافت اور قانون سے بھی گہرا لگاؤ ہے۔ ان کی ریڈیائی تقریروں کا مجموعہ ’’سائنسی شعائیں‘‘ کے نام سے شائع ہوکر پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ غرض کہ ریشم سازی نہایت ہی قدیم ترین اور بہت ہی نفع بخش صنعت ہے جو کہ کیڑوں کی پیدائش اور اس کی نشونما پر منحصرہے۔ جدید دور کے ساتھ ساتھ اس میں بھی نت نئے تجربات ہورہے ہیں۔ ریشم سازی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ گاؤں دیہات اور کم سے کم لاگت میں بھی اس کو شروع کیا جاسکتا ہے اور بہتر منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 

غزل   کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں   کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں   وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہے اور مائل بہ کرم...