Search This Blog

Sunday, 7 March 2021

 


کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں  
کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں

 

وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہے
اور مائل بہ کرم ہے کوئی منگتا ہی نہیں

 

حسن ظاہر سے ہی مدہوش ہوا جاتا ہوں
حسن باطن کا وہ جلوہ ابھی دیکھا ہی نہیں

 

یہ کرم ہے یا ستم بھیج دیا دنیا میں
تجھ کو دیکھے بنا جینے کی تمنا ہی نہیں

 

ہر تصور نے بنائی تیری تصویر الگ
اور ایسا ہے کسی نے تجھے دیکھا ہی نہیں

 

بے رخی اتنی میرے حال سے اچھی تو نہیں
بن تیرے کس کو پکاروں کوئی اپنا ہی نہیں

 

یہ سنا ہے کہ تو رہتا ہے شہ رگ سے قریب
دوسرا کون ہے مجھ میں کہیں ملتا ہی نہیں

 

بے خودی اتنی ہمہ وقت ہے طاری مجھ پر
اور پینے دو مجھے ہوش تو آتا ہی نہیں

 

کیا مجال اس کی ہے وہ چھوڑ چلا جائے گا
تیری مرضی کے بنا پتا تو ہلتا ہی نہیں

 

حسرتیں رہ گئیں دلدار کی دل میں رومیؔ 
کیا عجب میری ہتھیلی میں وہ ریکھا ہی نہیں

غزل   کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں   کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں   وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہے اور مائل بہ کرم...