کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں
کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں
وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہےاور مائل بہ کرم ہے کوئی منگتا ہی نہیں
حسن ظاہر سے ہی مدہوش ہوا جاتا ہوںحسن باطن کا وہ جلوہ ابھی دیکھا ہی نہیں
یہ کرم ہے یا ستم بھیج دیا دنیا میںتجھ کو دیکھے بنا جینے کی تمنا ہی نہیں
ہر تصور نے بنائی تیری تصویر الگاور ایسا ہے کسی نے تجھے دیکھا ہی نہیں
بے رخی اتنی میرے حال سے اچھی تو نہیںبن تیرے کس کو پکاروں کوئی اپنا ہی نہیں
یہ سنا ہے کہ تو رہتا ہے شہ رگ سے قریبدوسرا کون ہے مجھ میں کہیں ملتا ہی نہیں
بے خودی اتنی ہمہ وقت ہے طاری مجھ پراور پینے دو مجھے ہوش تو آتا ہی نہیں
کیا مجال اس کی ہے وہ چھوڑ چلا جائے گاتیری مرضی کے بنا پتا تو ہلتا ہی نہیں
حسرتیں رہ گئیں دلدار کی دل میں رومیؔ
کیا عجب میری ہتھیلی میں وہ ریکھا ہی نہیں