Search This Blog

Monday, 30 January 2017

Utsahit Bekal

اتساہت بیکل!        

اتساہ سے لبریز بیکلؔ نے جب ’’ نغمہ و ترنم‘‘کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے مکینوں کو یقین ہوگیا کہ ’’اپنی دھرتی چاند کا درپن‘‘ ہے ۔’’لہکے بگیا مہکے گیت ‘‘کے ذریعے انہوں نے ہندی میں’’وجے بگل‘‘ بجایا۔’ ’مٹی ریت اور چٹان‘‘ سے اپنی شاعری کا خمیر تیار کرنے والے بیکلؔ نے ’’رنگ ہزاروں خوشبو ایک ‘‘سے اردو شاعری کو معطر کردیا۔جب’’پروائیاں‘‘ چلیں تو اس کی سوندھی سوندھی خوشبوکھیتوں اورکھلیانوں میں تحلیل ہوکر ’’موتی اگے دھان کے کھیت ‘‘کی صورت میں دیہات کو نایاب تحفہ دے گئی۔’’توشۂ عقبی‘‘،تحفۂ بطحا‘‘،’’نغمۂ بیکل ‘‘،’’موج تسنیم ‘‘،’’جام گل ‘‘،’’نشاط زندگی ‘‘اور’’ نور کی برکھا‘‘ وغیرہ ان کے اخروی سرمائے ہیں۔اس لحاظ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیکل نے دین و دنیا میں بیک وقت سرخروئی حاصل کی۔ تاہم ان کی بد نصیبی یہ رہی کہ ان کے جیتے جی نقاد نے ان پر توجہ نہ دی۔نیز وہ اس کے خواہاں بھی نہیں رہے ۔نام ونمود اور ادبی سیاست سے کوسوں دور رہے۔’’میں توایک کسان ..محنت اور لگن سے ادب کی دھرتی پر کشت قلم سے شعری فصل اگاتارہاہوں،یہ کبھی بھی نہیں سوچاکہ بازار نقد وتبصرہ میں کس بھاؤمیری گاڑھی کمائی جائے گی ‘‘۔(1)خیر غالب جیسا عظیم شاعر بھی اپنی زندگی میں اس سے محروم رہا۔ لمبے عرصے تک نظیر اکبرآبادی کو تو قابل التفات ہی نہیں گرداناگیالیکن جب وقت کا غبار ہٹا تو یہ دونوں شاعری کی دنیا میں موضوعاتی واسلوبیاتی سرخیل ٹھہرے۔ 
 لودھی محمد شفیع خان 1928 کو رمواپور،اترولہ تحصیل ضلع بلرام پورکے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد کا نام لودھی محمد جعفرخان اوروالدہ کابسم اللہ بی بی تھا۔بچپن سے ہی شعر وشاعری سے شغف تھا۔سو شلسٹ تحریک سے جڑنے کی پاداش میں انہیں جیل بھی جاناپڑا۔محمد شفیع خان 1945 میں جب وارث پیا کے درگاہ دیواگئے توشاہ حافظ پیارے میاں نے کہا’’بیدم گیا بیکل آیا‘‘اسی وقت سے انہوں نے خود کو بیکل وارثی سے موسوم کرلیا۔1952کوگونڈہ میں ایک انتخابی پروگرام ہوا جس میں جواہر لعل نہرونے شرکت کی تھی ۔اس موقع پر بیکل وارثی نے اپنی نظم ’’کسان بھارت کا‘‘پیش کی تو نہرو جی نے کہا’’یہ ہمارا اتساہی شاعر ہے‘‘۔اس کے بعد سے ہی وہ بیکل’ اتساہی‘ ہوگئے۔نہروجی کا کہاصد فی صد صحیح نکلا۔ملک وملت کے تئیں جو ان کا اتساہ اور جذبہ تھا وہ مرتے دم تک قائم رہا۔1976 میں بیکل اتساہی پدم شری ہوگئے۔1986 میں کانگریس نے ان کی خدمات کودیکھتے ہوئے انہیں راجیہ سبھا کی رکنیت دی۔2015 میں انہیںیوپی کا سب سے بڑاایوارڈ ’’یش بھارتی ‘‘سے نوازاگیا۔3 دسمبر 2016 کو بیکل اتساہی نے سب کو بیکل چھوڑدیا ۔یہ خبردسن کر ذہن میں ان کا یہ شعر کوند گیا:
صبح اخبار کی ہتھیلی پر 
سرخیوں میں بکھیرتا ہے مجھے
 بیکلؔ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔گنگاجمنی تہذیب کے روشن مینار تھے۔وضع قطع میں صوفی مشرب اور حاٖظ ملت کے مرید خاص تھے ۔مذہب ومسلک کی سرحد سے بے نیاز ہندوستانی تہذیب وثقافت اور ہم آہنگی کے حسین سنگم تھے۔ان کا مزاج قلندرانہ تھا ۔دوستی سب سے تھی مگر بیر کسی سے نہ تھا۔زمین دار گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود مزدوروں اورکسانوں سے حد درجہ لگاؤ تھا۔درد مند دل سوز وگداز سے پر تھا۔اردو کے دو عظیم شاعر اصغر گونڈوی اورجگر مرادابادی سے گہری وابستگی تھی۔ان کی صحبت نے ان کے فکر وفن کو جلا ضرور بخشی تاہم تقلید تنک وہ سے محفوظ رہے ۔آٹھویں جماعت سے ہی جگر اور اصغرکی صحبت میسر تھی۔1944 میں انہوں نے اپنا پہلا کلام اصغر گونڈوی کو سنایاجس کا مطلع تھا:
نظاروں کے لیے ویرانہ جب آباد ہوتاہے
جنوں میں اشتیاق دید بے بنیاد ہوتا ہے

 بیکل اتساہی قدیم روایات کے امین اورجدید اقدار کے حامل تھے ۔تقریبا سات دہائی تک آسمان شعر وسخن پر جلوہ فگن رہے۔اس دوران بے شمار غزلیں،نظمیں،نعتیں،دوہے اور گیتیں کہیں۔ایک درجن سے زائد ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے۔انہوں نے اپنی طویل عمر میں اردو کی تین بڑی تحریکات ورجحانات کے وجودو عدم کو دیکھا۔ان کے سامنے ترقی پسندی،جدیدیت اور مابعد جدیدیت وجود سے عدم کو سدھار گئیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے خود کو ان سے وابستہ کیا اور نہ ہی متاثر ہوئے۔البتہ استفادہ ضرور کیا ۔بیکلؔ کے ذہن وفکر نے ہمیشہ اردو کا راگ الاپا ۔اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی۔جنگ آزادی اور قومی یک جہتی میں اردو کی شراکت کوواضح کیا:
گھرا طوفان میں جب بھی وطن، آوازدی میں نے
ہوئی انسانیت جب بے کفن، آواز دی میں نے
میں اردو ہوں، مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہے
خزاں نے رخ کیا سوئے چمن، آوازدی میں نے
 بیکل ؔ کے شعری سفر کے ہونٹوں پربے پناہ تجربوں کاتبسم اورکڑواہٹ نظر آتاہے۔ چوں کہ انہوں نے غلامی کی زندگی ،آزادی کی جد وجہد اورپھر آزاد ہندوستان کوبہت قریب سے دیکھاتھا۔انگریزوں، زمین داروں اورساہوکاروں کا ظلم بھی محسوس کیا تھا ۔اس لیے ان کی شاعری کسانوں،مظلوموں اورمزدوروں کی نقیب بن کر ان میں ہمت وحوصلے کی دیپ جلاتی رہی۔جب وہ ایوان بالا میں پہنچے تو وہاں بھی ان کی فریاد رسی کی ۔بیکل نے بلاتفریق مذہب وملت کسانوں اوربے کسوں کی مسیحائی کی ۔ان کی بے جان آواز میں روح پھونک دی۔ان کی ٹوٹی پھوٹی اوربے ہنگم آواز کو سر تال دے کرنغمۂ سرمدی بنادیا۔اس طرح ان کی شاعری میں پوراہندوستان جاگزیں ہوگیا۔بیکل ؔ کی شاعری میں تخیل وتفکر کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ فن امیجری بھی منتہائے کمال پر ہے۔اردوکے ساتھ ہندی کے سبک الفاظ اس طرح مدغم ہیں کہ ان میں ایک طرح کی شیرینی پیدا ہوگئی ہے۔فراق گورکھپوری رقم طراز ہیں:
          ’’بیکل کے وہاں جن الفاظ کا تصرف ہے اس میں علامات کی بہتات کم اورخیال کا بہاؤ زیادہ ہے۔ان کے فکر وفن میں کچھ اس طرح کی وابستگی ہے کہ کلام میں ہندی اور اردو کے حسین سنگم سے یکجہتی کا رنگ پھوٹ نکلا ہے ۔بیکل کی غزلوں میں بھی زندگی اور کائنات کے تمامی محرکات موجود ہیں۔زندگی اورسماج کے نازک رشتوں کے بنیادی اورافادی پہلوؤں کی تفسیر ہے۔فن کے نئے معیار کی جمالیاتی اورفکری قدروں کے احساس میں جذباتی اورذہنی عناصر کی رنگ آمیزی ہے۔نئے عنوان ،ندرت اورہیئت کے حسین تجربوں کی فنی حیثیت کا تعین ہے۔روایتی قدروں کے صالح عناصر کو اس رنگ سے استعمال کیا ہے کہ شعری شعور میں افادی پہلو اورتفہیم کی جلوہ گری معلوم ہوتی ہے۔رومان اورفکر کے دونوں پہلوؤں کوآئینہ بنا کر زندگی کے خوش رنگ خاکے بنائے ہیں۔اس لحاظ سے یہ پہلے شاعر ہیں کہ جس نے فن امیجری کو صحیح اورپر معنی صرف کیا ہے۔ابہام کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔فرسودہ طلسم کو توڑ دیا۔تمثیلی اعجاز کا حسین راستہ تراشا،موسیقیت اورجمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی۔اگر ان کا کلام رہ گزار شاداب کہاجائے تو ان کے گیت اورغزلیں رہ گزار حیات میں منزل نو کے امین بن سکتے ہیں‘‘۔(2)
      بیکل نے شاعری کے تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ۔تاہم وہ بنیادی طور پر نظموں اور گیتوں کے شاعر ہیں۔لیکن اس کے باوجود ان کی غزلیں بھی بہت دل کش ہیں۔انہوں نے غزل کے حسن وعشق اور تقاضے کا لحاظ رکھتے ہوئے عصر حاضر کے مطالبات کوبھی نظر انداز نہیں کیا۔زمانے کی نیرنگیوں اور نت نئے مسائل نے غزل میں حسن وعشق کے ساتھ ساتھ ان مسائل کو بھی سمونے کی کوشش کی جن سے غزل کا دائرہ وسیع ہوا۔چناں چہ غالب نے جب غزل کو قوت فکر بخشی تو تنگ دامنی کا احساس ہوالیکن رموز وعلامات کی فراوانی نے اس کمی کو بہت حد تک دور کردیا۔اسی طرح بیکل نے اردو غزل کی رائج لفظیات سے انحراف کرکے ایک نیا رنگ وآہنگ بخشا۔ غزل کی نازکی اور شائستگی کو برقرار رکھتے ہویے انہوں نے زبان کی سطح پر بھی تجربہ کیا ۔عربی وفارسی الفاظ کی جگہ خالص ہندی کے سبک وشیریں الفاظ کو شعوری طور پر استعمال کیااور انہیں ہندی تہذیب سے ہم آہنگ کرکے دوآتشہ بنادیا۔’’بیکل صاحب نے اپنی غزلوں اورگیتوں میں صنف غزل کی رائج لفظیات کے بجائے عوامی کہاوتوں اورلوک روایت سے لفظیات اور ترکیب کشید کی ہیں،ان کو بیکل صاحب کی انفرادیت کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے اورخود غزل کے نئے لہجے کی پہچان کے طور پر بھی‘‘۔(3)بیکل نے غزل کو گیت کا رنگ وروپ دے کر اسے ایک دیہی حسن بخشاہے۔ انہو ں نے ہندی الفاظ کے استعمال سے اشعار میں حسن اور نغمگی دونوں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ا ن دونوں کو دوقالب اور ایک جان قرار دیا ہے اور اردوکے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس کا اظہار کیاہے ۔ذیل کے اشعار دیکھیں: 
ان دونوں کی ایک ہی ماں ہے دو قالب ہیں ایک ہی جاں ہے
پھر بھی اردوکو ہندی کی لوگ کہیں سوتیلی ہے
میری زباں ہردل کی زباں ہے کومل کومل حسن بیاں ہے
برسوں تک یہ خسرو کی انگنائی میں کھیلی ہے
اس کا لہجہ چنچل چنچل روپ کا درپن جیوت کی جھل جھل
میری غزل کی بحر نہ دیکھو یہ تو میرؔ کی چیلی ہے
آگئیں یاد کٹھور کی بتیاں برسے نین دھڑک گئیں چھتیاں
پردیسی اب بھیج دے پتیاں برہن آج اکیلی ہے
طنز کی تیغ مجھی پر سبھی کھینچے ہوں گے
آپ جب اور مرے اور نگیچے ہوں گے
    بیکلؔ اتساہی چوں کہ گاؤں کے اس ماحول کے پروردہ ہیں جہاں کبیرؔ ،تلسیؔ ،جائسیؔ اورنظیرؔ اکبرآبادی کی نظمیں لوگوں کی زبان زد تھیں۔اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے ان کی شاعری کانوں میں رس گھول جاتی۔چناں چہ ان کی نظمیں،دوہے اورکویتائیں بیکل کی سائیکی کا حصہ بن گئیں،جولاشعوری طورپر شعری سفر میں ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں اور وہ ان ہی کی ڈگر پر چل نکلے۔نظیر نے اردو شاعری کے موضوعات میں جو سیندھ لگائی تھی بیکل بھی اسی راہ سے اندر داخل ہوگئے۔نظیرؔ کے تعلق سے احتشام حسین کا یہ جملہ’ ’نظیر درحقیقت ایک اہم قومی شاعر اورمبلغ انسانیت پیامبر ہیں‘‘۔(4) بیکل ؔ پر بھی ہوبہو صادق آتاہے۔ان دونوں نے حب الوطنی،قومی یک جہتی ،ہندوستانی دیومالائی اور اساطیری عناصر کو کثرت سے موضوع سخن بنایااور اردو شاعری کو تصویر گنگ وجمن کا آئینہ دار بنایا۔مناظرفطرت،قومی ہم آہنگی،ہولی،دیوالی،رام،کرشن،نانک وغیرہ پر ان دونوں نے خوب نظمیں کہیں۔بیکل کی ایک نظم ’دلی‘ہے جس میں دلی کی پوری تاریخ وتہذیب سمٹ آئی ہے۔اس کے علاوہ ہریانہ اوراترپردیش کو بھی اپنی نظم میں بسادیاہے۔ بیس سال پہلے کہی گئی ان کی نظم ’’دیوالی ‘‘کا یہ بند موجودہ سیاسی منظرنامے کی منہ بولتی تصویر ہے:
پرکھوں کا سب گڑاہوادھن
دھری امانت گروی زیور
دونمبر کے تازے نوٹوں کی گڈی
چھین لے گیا جبرا سینہ زوری کرکے
سناٹے سے لابھ اٹھاکر
ہندوستان کی تہذیبی وثقافتی ،سماجی اور لسانی روح توگاؤں میں بستی ہے ۔جہاں کی صبح وشام میں مسجد کی اذانیں اورمندر وں کے گھنٹے صاف سنائی دیتے ہیں۔مختلف قسم کے رسم ورواج ،گیت اورراگ راگنیادیکھنے اور سننے کوملتی ہیں۔کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں،باغیچوں میں تناور درخت اور ندی تالاب فطرت کی چغلی کھاتے ہیں۔مگر اس کے باوجود بہت سے شعراکو ان میں حسن نظر نہیں آتا۔وہ ان سے نظریں چراکر نکل جاتے ہیں۔اس کی وجہ شاید نقادوں کی سرد مہری رہی ہے۔چوں کہ اس طرح کے موضوعات برتنے والے شعرا کو عوامی یا بازاری کہہ کرانہیں ادب میں کوئی مقام نہیں دیاجاتا۔اس لیے شعوری طور پر وہ ان موضوعات سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔تاہم بیکل کی حساس طبیعت نے نام ونمودکی پرواہ کیے بغیر ان بے جان موضوعات کو از سر نو زندہ کرنے کا بیڑااٹھایا۔اس کے لیے انہوں نے غزل کے علاوہ نظموں اور گیتوں کا سہارالیا اور اردو زبان کو کسانوں،کھیتوں،کھلیانوں اور جھوپڑیوں میں بسادیا۔
یہ شہر کے باسی کیا جانیں کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا
کیا عشق ہے لاج کی الہڑ کا کیا حسن ہے موہ کے نٹ کھٹ کا 
شرمائی سی ماتھے کی بندیا اٹھلائی سی پاؤں کی پائیلیا
السائی سی آنکھوں میں نیندیا بے سدھ وہ سرکنا گھونگٹ کا
بیکل ؔدیہی جمالیات کے شاعر ہیں۔جو کھیت کھلیان ،رسم ورواج اور لوک کہاوتوں کوشعری پیکر میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں گاؤں کا تصور اتنا گہراہے کہ ان کی شاعری میںیہ لفظ ایک الگ حسن پیدا کردیتاہے۔گاؤں کی کہاوتیں جیسے داہنی آنکھ کا پھڑکنا نیک شگون مانا جاتاہے، اس کو کتنی خوبصورتی سے باندھاہے:
رات بھر گاؤں دل کا سلگتا رہا زندگی آسروں میں دہکتی رہی
چاند بیٹھا منڈیروں پہ گلتا رہا چاندنی چھپروں سے ٹپکتی رہی
راہ میں آنے والے کی بیٹھی ہوئی عمر کا لمحہ لمحہ پگھلتا رہا
ڈاکیہ تار پڑھ کر سناتا رہا دا ہنی آنکھ بیکل پھڑکتی رہی
حد تویہ ہے کہ کھیتوں،کھلیانوں اورکسانوں کے اس شاعر پر ترقی پسند نقادوں نے بھی توجہ نہیں دی۔حالاں کہ بقول سجاد ظہیر اور علی سردار جعفری’’ترقی پسندی کے جوکا م ترقی پسندوں کوکرنا چاہیے وہ بیکل اتساہی نے بہت پہلے کردکھایا۔جس میں مزدوروں کسانوں کی آوازاردوزبان کے پرچم تلے اٹھائی ہے‘‘(5)۔ ان کا منشور ہی دبے کچلے لوگوں،مزدوروں اورکسانوں کی آواز بنناتھا۔یہ اشعار دیکھیں:
اب تو گیہوں نہ دھان بوتے ہیں
اپنی قسمت کسان بوتے ہیں
گاؤں کی کھیتیاں اجاڑ کے ہم
شہر جاکر مکان بوتے ہیں
فصل تحصیل کاٹ لیتی ہے
ہم مسلسل لگان بوتے ہیں
 بلاشبہ مشاعرہ اردو زبان کی توسیع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔بستی بستی قریہ قریہ ناخواندہ عوام تک اردو زبان کی شیرینی پھیلانے میں اس کاا ہم رول ہے۔بیکل نے بھی مشاعروں کے ذریعے عوام کے دلوں میں اس کی شیرینی اورحلاوت کورچانے بسانے کا کام کیا۔بدلے میں انہیں مشاعرے کا شاعر قراردے کر نقادوں نے صرف نظر کرلیا۔’’ان حضرات نے یہ نہیں سوچاکہ اردوزبان کی توسیع واشاعت کی ارتقائی منزلوں میں مشاعروں کوذریعہ بنا کرغیراردوداں حلقوں تک اردو کو پہنچانے میں اوراردوکا دل دادہ بنانے میں جو محنت اورمشقت کی ہے وہ کیا کلاسکل ،جدیدیت مابعد جدیدیت،تجریدیت،ساختیات وترقی پسند لوگوں نے یہ کام کیاہے‘‘۔ (6)تاہم ان کی یہ بد نصیبی کہیے یا خوش نصیبی کہ انہوں نے خود کوادبی سیاست سے دور رکھا اورنقادوں کی خوشامد نہیں کی۔جس کے سبب ادب میں انہیں وہ مقام نہ ملا جس کے وہ حق دارتھے۔انہوں نے اخلاص کے ساتھ اردو زبان کو گاؤں کی روح میں بسایا۔ اردو شاعری کی لفظیات میں ہندی ،اودھی اوربرج الفاظ کا اضافہ کیا۔ہندوستانی لوک روایت سے استفادہ کرکے گیتوں کو جدید رنگ وآہنگ بخشا۔چناں چہ یہ کہنا بجا ہے کہ انہوں نے گیتوں کے دم توڑتے ہوئے سامراٹ کو استحکام بخشا۔اس حوالے سے ڈاکٹر ظ انصاری لکھتے ہیں:
             ’’بیکل کی زنبیل میں اودھی اوربرج کے گیتوں کا،دوہوں اورچوپائیوں کا،بھوجپوری،پدو،کبیتاؤں کاایسارنگ برنگاخزانہ ہے کہ اللہ دے اوربندہ لے۔وہ ان کی طلب میں گاؤں گاؤں نہیں پھرے،اسے پیشہ نہیں بنایا،پبلسٹی نہیں کی،یہ گیت ان کی طلب صادق دیکھ کر خود ہی آئے،زنبیل بھرتے گئے۔...بیکل غزلوں کولوک گیتوں کی،گیت کوغزلوں کی چاشنی دے کر ایساآمیزہ تیار کرتے ہیں جوزود ہضم بھی ہواورپرکیف بھی‘‘۔(7)
       بیکل نے اپنے مجموعے ’’موتی اگے دھان کے کھیت‘‘میں ارباب نقدونظر کے سامنے یہ سوال قائم کیاہے کہ اردو شاعری کے نصاب میں تمام اصناف سخن شامل ہیں تاہم نعت اورگیت کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔حالاں کہ یہ بھی اردو شاعری کی اہم اصناف ہیں۔چناں چہ ارباب ادب کو اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔بیکلؔ کاایک گیت ہے ’’جب ترے شہر سے میں چلا جاؤں گا‘‘آج جب وہ نہیں رہے تو اس گیت کاایک ایک بند ان کی یاد دلارہاہے۔بطور مثال ایک بند ملاحظہ ہو:
کون کٹیوں کی دھوئی ہوئی بھور کو
شیش محلوں کی دہلیز پر لائے گا
گیت سیلاب کا قحط کی داستاں
کون بزم غزل میں سنا جائے گا
کون اگائے گاگملوں میں امرائیاں
جب تیرے شہر سے میں چلا جاؤں گا
          غرض بیکل نے اپنی پوری زندگی اردوشاعری کی آبیاری میں گزاردی اورکسانوں کی سر میں تال ملاکران کے اندر اتساہ پیدا کیا۔ غزل کے شہر میں گیتوں کا گاؤں بسانے ،گاؤں والوں کے من میں غزل کارس گھولنے ،کھیتوں،کھلیانوں اورپگڈنڈیوں سے اردو شاعری کو آشناکرانے اورانجمن انجمن گنگنانے والاہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا ۔
بیکل ترا پگ پگ نام یہاں اتساہی ترے سب کام یہاں
تری بھور یہاں تری شام یہاں پھر کاہے پھرے بھٹکا بھٹکا
***
حواشی

  1. بیکل اتساہی ۔مٹی ،ریت، چٹان،ص 17 ہریانہ اردو اکیڈمی،1992 
  2. راق گورکھپوری،مٹی ریت چٹان ،ص 11,12ہریانہ اردو اکادمی1992
  3. پروفیسر ابولکلام قاسمی۔مقدمہ موتی اگے دھان کے کھیت ،بیکل اتساہی،ص 10،کاک آفسیٹ پرنٹرس دہلی،2002
  4. سید احتشام حسین۔ذوق ادب اور شعور،ص144 ،اترپردیش اردا اکادمی لکھنو،2014 
  5.  بیکل اتساہی ،موتی اگے دھان کے کھیت،ص8 کاکاآفسیٹ پریس دہلی ۔2002
  6.  ایضاص7-8 
  7.  بیکل اتساہی ،رنگ ہزاروں خوشبوایک،ص 11-12 ،اردواکادمی دہلی،1989 


3 comments:

  1. عمدہ اور معلوماتی تحریر......

    ReplyDelete
  2. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  3. ماشاء اللہ
    عمدہ اور پرلطف تحریر

    ReplyDelete

غزل   کون سمجھے گا اسے حد میں وہ آتا ہی نہیں   کس کا جلوہ ہے دو عالم میں سماتا ہی نہیں   وہ تو در اپنا ہمہ وقت کھلا رکھتا ہے اور مائل بہ کرم...